خطبات محمود (جلد 14) — Page 134
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء اور اس میں اپنی ہتک نہیں سمجھتا تو ایک ڈاکٹر کا دوسرے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ، کس طرح ہتک کا موجب ہو سکتا ہے۔ پس دیانت، ایمان اور دین کے لحاظ سے ایک معالج کا فرض ہے کہ جب حالت خطر ناک دیکھے تو مشورہ دے کہ کسی اور کو بلا لیا جائے ۔ ڈاکٹروں کا قاعدہ ہے کہ دوسرے کا نسخہ دیکھ کر کہتے ہیں، یہی تو میں دے رہا تھا۔ حالانکہ ہو سکتا ہے کہ ہزار دفعہ جو چیز دی گئی ہے وہ ایک دفعہ کسی نئی دوائی کے ساتھ ملا کر دی جائے تو اس سے جان بچ جائے۔ پس یہ دو باتیں ہیں جو اس وقت کہنا چاہتا ہوں ۔ گزشتہ پر شکوہ نہیں ، پر آئندہ احتیاط کیلئے ۔ گزشتہ واقعہ کے متعلق تو میں برابر ڈاکٹر صاحب پر اعتراضات کا دفعیہ کرتا رہا ہوں ۔ اور جو بھی ملا ہے اسے سمجھایا ہے لیکن آئندہ کی احتیاط کیلئے یہ باتیں بیان کرنا ضروری ہیں ۔ اپنے لئے نہیں بلکہ کی یہ کرنا ہیں۔ دوسروں کیلئے کیونکہ ہر عورت اپنے گھر کیلئے بمنزلہ ستون کے ہوتی ہے جس کے ٹوٹنے پر گھر کے ویران اور بچوں کے برباد ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ایک بھنگی کی عورت بھی اپنے گھر میں ویسی ہی ہے جیسے ایک بادشاہ کی۔ پس میں اس موت کو ایک قربانی سمجھوں گا اگر ہمارے احمدی ڈاکٹر اس عادت کو چھوڑ دیں۔ غرض دو باتیں میں کہتا ہوں ایک اپنے متعلق دوسری عام ۔ اپنے متعلق یہ کہ اگر میں باہر ہوں تو میرے عزیزوں اور قائمقام کو اطلاع ہونی چاہئیے تا مجھے علم ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ مستغنی ہے اور میں اُس کے غضب سے پناہ مانگتا ہوں لیکن پھر بھی گریہ وزاری سے دعا کی توفیق ملنے کے بعد میں نے کسی بات کو ٹل جانے یا ملتوی ہوئے بغیر نہیں دیکھا۔ میرے پاس روپیہ نہیں ہے لیکن کسی کو مجھ پر یہ بدگمانی نہیں ہونی چاہیے تھی کہ میں ان تاروں کا خرچ نہ دیتا۔ اگر پندرہ پندرہ منٹ کے بعد بھی مجھے اطلاع دی جاتی تو مجھے خرچ ادا کرنے میں کوئی اعتراض نہ ہوتا بلکہ تازیست میری روح اس کے زیر احسان رہتی ۔ عام نصیحت یہ ہے کہ جب مرض سخت ہو ڈاکٹر کو خود زور دینا چاہئے کہ دوسرے ڈاکٹروں سے مشورہ کیا جائے اور اگر غریب کو ڈاکٹر بلانے کی توفیق نہ ہو تو اپنے رسوخ اور دوستانے سے کام لے کر خود ڈاکٹر دوسرا ڈاکٹر بلائے ۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اگر ہزاروں ایسے غریب مریض جن کی موت پر ایسی ہی غلطیاں ہوتی ہیں ، ان کی بہتری مد نظر نہ ہوتی تو میں یہ بات ہرگز نہ کہتا کیونکہ اس واقعہ کی تو اب اصلاح نہیں ہو سکتی ۔ اور ساتھ ہی مجھے یہ بھی یقین ہے کہ ہر ابتلاء میں اللہ تعالیٰ نے برکتیں رکھی ہوتی ہیں ۔ اور یہ میں کبھی نہیں مان سکتا کہ رحمن رحیم خدا بندے پر ظلم کرے گا ۔ ہر 132