خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 133

خطبات محمود ١٣٣ سال ۱۹۳۳ء سانس، ہر قدم ہر نظر اور ہر شنوائی اور ہر لفظ جو انسان کے منہ سے نکلتا ہے اور ہر ہوا جو ناک میں جاتی ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے طفیل میں ہم اس کے ساتھ وابستہ بداثرات اور عذابوں بچتے ہیں۔پھر میں کس طرح اس پر بدظنی کر سکتا ہوں۔وہ ہاتھ جس سے لاکھوں میٹھی قاشیں ہم نے کھائی ہیں۔اگر علاج کے طور پر کوئی کڑوی بھی کھلائے تو سوائے الْحَمْدُ لِلَّهِ کے ہمارے منہ سے کچھ نہیں نکل سکتا۔اس لئے بندوں کے فعل پر اعتراض نہیں کرتا تا اس سے اشارہ اپنے آقا کا شکوہ نہ ہو جائے۔لیکن اس خیال سے کہ شاید بعض غریبوں کی اس میں بہتری ہو جائے اور کئی اور بے کس عورتوں کی جانیں بچ جائیں، میں نے یہ بات کہہ دی ہے۔(الفضل تیم جون ۱۹۳۳ء) له بخاری کتاب التفسير باب قوله فَأَمَّا من اعطى واتَّقَى کے مسلم کتاب الجنائز باب البكاء على الميت سے بخاری کتاب الجنائز باب من جلس عند المصيبة يعرف فيه الحزن ه بخاری کتاب الرقاق باب التواضع ولا بدله منہ کے الفاظ اس روایت میں نہیں ہیں) مسلم کتاب السلام باب لكل داء دواء والاستحباب التداوى (الا الموت کے الفاظ اس روایت میں نہیں) نہ تذکرہ صفحہ ۲۶- ایڈیشن چهارم