خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 130

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء میری ایک بیوی اپنے بھائی کے ہاں تھیں۔ انہیں کہلا بھیجا کہ اگر جانا ہو تو تیار ہو جاؤ۔ اور دوسری طرف حالات دریافت کرنے کیلئے تار لکھ کر شیخ یوسف علی صاحب پرائیویٹ سیکرٹری کو دیا۔ لیکن مجھے یہ وہم بھی نہ تھا کہ ایسے ضروری تار کیلئے یہ کہنے کی ضرورت ہے کہ ایکسپریس بھیجا جائے۔ انہوں نے آرڈنری بھیج دیا جو وفات کے پندرہ منٹ بعد یہاں پر پہنچا۔ اُدھر میں مطمئن تھا کہ اس وقت تک جو جواب نہیں آیا تو آرام ہی ہوگا۔ اور میں نے یہ خیال کیا کہ شیخ صاحب نے ایسی بیوقوفی کہاں کی ہوگی کہ آرڈنری(ORDINARY) تار دیا ہو۔ یقینا آرام ہوگا جو اب تک جواب نہیں آیا۔ میرا ذہن بھی اس طرف نہیں گیا کہ شیخ صاحب نے ایسی غلطی کی ہے۔ میں جواب نہ ملنے کے یہی معنی سمجھتا رہا کہ آرام ہے۔ کیونکہ جب آرام ہو تو تار دینے کی جلدی نہیں ہوا کرتی ۔ جب وفات کی خبر ملی تو یہاں پہنچنے تک مجھے یہ رنج رہا کہ جلد تار کا جواب کیوں نہیں دیا گیا۔ مگر یہاں آکر معلوم ہوا کہ وہ وفات کے پندرہ منٹ بعد یہاں رہا کا پہنچا تھا۔ یہ غلطی راولپنڈی میں میری موجودگی میں ہوئی۔ پس میں اس غلطی کو ایک نا دانستہ غلطی سمجھتا ہوں ۔ لیکن ساتھ ہی یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ایک غلطی تھی۔ ایسے موقع پر دوستوں کو اطلاع ہونی چاہئیے تھی تا دعا کی تحریک ہو۔ اور اس کیلئے مقامی امیر کو فورا اطلاع دینی چاہئیے تھی۔ وہ فور اطلاع کرتے اور دوستوں کو اطلاع ہو جاتی ۔ پھر فورا میری طرف بھی اطلاع بھیجنی چاہئے تھی۔ اگر مجھے رات کو ہی تار دے دیا جاتا تو وہاں کثرت سے ہوائی جہاز ملتے ہیں۔ ممکن تھا اگر انتظام ہو سکتا تو میں ایک گھنٹے میں یعنی صبح سات آٹھ بجے تک یہاں پہنچ سکتا۔ پھر اگر آپریشن ہونا ہوتا تو میرے سامنے ہوتا اور اگر وفات ہی مقدر تھی تو وہ بھی میرے سامنے ہوتی۔ دوسری احتیاط جو ضروری تھی یہ ہے کہ زچگی بہت بڑی تکلیف کا موجب ہوتی ہے۔ خصوصا دوسری بار تو ہر عورت یہی سمجھتی ہے کہ وہ مر جائے گی سوائے اُجڑ جاہل عورتوں کے جن کی حس مردہ ہو چکی ہو۔ سب تعلیم یافتہ اور سمجھدار عورتیں ہر حمل کے موقع پر یہی کہتی ہیں کہ ہم اب کے مرجائیں گی ۔ مگر باوجود اس کے یہ صحیح نہیں ہوتا۔ اس لئے جو عورت ایسا کہے اس کے متعلق سمجھ لینا کہ کوئی خاص بات ہے یہ تو صحیح نہیں مگر با وجود اس کے اس میں کلام نہیں ۔ اطباء اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ زچگی کے بعد عورت کو نئی زندگی حاصل ہوتی ہے۔ پھر کسی کا یہ خیال کرنا کہ کسی کے مشورہ کی ضرورت نہیں، بالکل غلط بات ہے۔ قادیان 128