خطبات محمود (جلد 14) — Page 129
خطبات محمود ۱۲۹ سال ۱۹۳۳ء تھا۔ہو۔میں اس وقت چھ ڈاکٹر تھے۔ڈاکٹر غلام احمد صاحب جو طب کی بڑی سے بڑی ڈگری ولایت۔حاصل کر کے آئے ہیں۔ان کے برابر ابھی تک ہماری جماعت میں کسی نے ڈگری حاصل نہیں کی۔ان کے علاوہ ڈاکٹر عبدالسمیع صاحب تھے۔ڈاکٹر سید رشید احمد صاحب تھے۔ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب، بھائی عبدالرحیم صاحب کے لڑکے - ڈاکٹر نذیر احمد صاحب پسر ماسٹر عبدالرحمن جالندھری تھے۔ڈاکٹر لعل دین صاحب تھے۔ان میں سے ایک ولایت کا تعلیم یافتہ، ایک اسسٹنٹ سرجن، چار سب اسٹنٹ سرجن تھے۔ان میں سے ممکن ہے بعض کا علم نہ ہو لیکن بعض کا ضرور علم لیکن باوجود اس کے نہ تو تیمارداروں کو اور نہ ہی معالجوں کو یہ خیال آیا کہ ہم سے بھی وسکتی ہے، کسی اور کو بھی مشورہ کیلئے بلائیں۔میرے رشتہ داروں کو خیال کرنا چاہیے تھا کہ اگر میں یہاں ہوتا تو کیا کرتا۔وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ڈاکٹر صاحب کو کہا تھا کہ کیا اور ڈاکٹر بلانے کی ضرورت ہے۔تو انہوں نے کہا کہ ہاں کوئی اور ڈاکٹر آجائے تو اچھا ہے کیونکہ اس طرح نرس فارغ ہو جائے گی اور مجھے اس کی بہت ضرورت ہے۔لیکن اس کے بعد نہ رشتہ داروں کو دوسرا ڈاکٹر بلانے کا خیال آیا اور نہ ڈاکٹر صاحب کو۔حالانکہ ایسی حالت خطرناک تھی خون آرہا تھا بچہ ٹیڑھا ہوا ہوا تھا، کمزوری تھی۔اول تو چاہیے تھا کہ امرتسر سے کسی کو بلالیا جاتا یا وہاں پہنچا ہی دیا جاتا۔لیکن اگر یہ نہیں ہو سکتا تھا تو کم سے کم یہاں کے ڈاکٹروں سے تو مشورہ کیا جاتا۔یہ خود معالج کی اپنی عزت کے بچاؤ کیلئے ضروری تھا۔ہندوستانی ڈاکٹروں میں سے ننانوے فیصدی ایسے ہیں جو دوسرے سے مشورہ کو اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب تجربہ میں جتنے سب اسٹنٹ سرجن میں نے دیکھے ہیں، ان سے اچھے ہیں۔مگر باوجود اس کے یہ معنے نہیں کہ انہیں مشورہ کی ضرورت نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قاعدہ تھا اور خود میں بھی جب ۱۹۱۸ء میں بیمار ہوا تو میں نے بھی ایسا ہی کیا کہ طبیب اور ڈاکٹر سب جمع کرلئے۔ڈاکٹروں کی دوائی بھی کھاتا تھا اور طبیبوں کی بھی۔کیا معلوم اللہ تعالی کس سے فائدہ دے دے۔اگر کوئی ڈاکٹر اپنے کو خدا سمجھتا ہے تو سمجھے، ہم تو اسے بندہ ہی سمجھتے ہیں۔یورپ کے ڈاکٹروں میں یہ مرض نہیں۔وہاں کے ڈاکٹر جب دیکھیں کہ حالت خطرناک ہے یا ان کا جو اندازہ ہے کہ اتنے دنوں میں آرام ہوگا وہ پورا نہ ہو تو خود کہہ دیتے ہیں کہ دوسرا ڈاکٹر بلاؤ۔اور پھر اس سے خود تبادلۂ خیالات کرکے مناسب علاج تجویز کریں گے۔بلکہ ان کے ہاں علاج کے ساتھ ڈاکٹر کا یہ بھی فرض ہے کہ جو ڈاکٹر کسی فیملی کا