خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 125

خطبات محمود ۱۲۵ سال ۱۹۳۳ء ا لگتا ہے کہ سے پوچھوں کہ امتہ العزیز آئی ہے یا نہیں۔اُسی دن پٹھانکوٹ میں ایک دوست نے خواب دیکھا۔شائد اُس دن جب وہ بیمار ہوئیں یا اُس دن جب وفات ہوئی۔یہ مجھے یاد نہیں رہا انہوں نے دیکھا کہ میں بہت افسردہ ہوں اور زمین کھدوا رہا ہوں ان سب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ وفات اللہ تعالی کی طرف سے مقدر تھی۔لیکن ان خوابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے ان کی وفات کو اہمیت دی ہے۔جبھی تو راولپنڈی، دہلی، پٹھانکوٹ ضلع جالندھر اور مختلف مقامات پر اس کی اطلاع دی۔ان کے علاوہ اور بھی بہت سے خواب ہیں جو مجھے یاد نہیں رہے۔مگر اس کثرت سے ہیں کہ ایک اچھا خاصہ مجموعہ بن جاتا ہے۔اور بظاہر پتہ اللہ تعالیٰ نے اس رنج کو ایک قومی رنج قرار دیا ہے۔تبھی تو ملک کے مختلف گوشوں میں اس کی قبل از وقت خبر دی۔اور اس طرح گویا واقعہ سے پہلے ہی ہمدردی کا اظہار کردیا۔حدیث قدسی میں بھی آتا ہے کہ وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِى عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاقَهُ وَلَا بُدَّلَهُ مِنْهُ ى یعنی اللہ تعالی کو مومن بندے کی جان نکالنے میں تردد ہوتا ہے۔اور اس وقت عرش الہی کانپتا ہے یہی وہ بات تھی جس کی طرف میرے رویا میں اشارہ تھا کہ زمین و آسمان کانپ گئے ہیں اور اس کا بھی یہی مطلب ہے۔مگر ایک بات ایسی کہ جب سے میں یہاں آیا ہوں، میرے کان میں پڑ رہی ہے۔اور وہ جس صورت میں کہ دوستوں تک پہنچی طبعاً ان کیلئے بھی اور میری قلبی کیفیت کے پیش نظر میرے واسطے بھی رنج کا موجب ہے۔بعض حالات ایسے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے عام طور پر دوستوں کو رنج اور شکوہ ہے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر سچا اُنس اور ہمدردی ہو تو اس قسم کا شکوہ پیدا ہونا بھی ایک طبعی امر ہے۔میں نے اس معاملہ کی تحقیقات کی ہے جس حد تک کہ میں شرعاً جائز سمجھتا تھا۔اور جس نتیجہ پر میں پہنچا ہوں وہ یہ ہے کہ جب ایک امر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہوچکا ہو اور اللہ تعالی اس کیلئے بیسیوں رویا اور کشوف دیکھا چکا ہو، اس کے متعلق یہ کہنا کہ یہ ہوتا تو یوں ہو جاتا۔یوں ہوتا تو یہ ہو جاتا قطعاً غلط ہے۔امتہ الحی مرحومہ کی بیماری کی اطلاع مجھے بمبئی میں ملی تھی۔اور میرے دل نے محسوس کیا کہ یہ خطرناک ہے۔وہاں سے جب میں ریل میں سوار ہوا تو منہ کھڑکی سے باہر نکال لیا تا کرب کی حالت کوئی اور نہ دیکھ سکے اور اللہ تعالٰی سے دعا شروع کی۔اور اس نتیجہ پر پہنچ گیا کہ مجھے وہاں پہنچنے کا موقع مل جائے گا۔اگرہ پہنچتے پہنچتے حالات کے تسلی بخش ہونے کی اطلاع بھی مل گئی۔ابھی دو روز ہی