خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 116

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء متعلق آپ کو کثرت سے الہامات ہو رہے تھے، اس لئے آپ نے یہی مناسب خیال فرمایا کہ کچھ عرصہ باغ میں رہیں۔ باقی دوستوں کو بھی آپ نے وہیں رہنے کی تحریک کی۔ اور چونکہ جلدی تھی اس لئے کچھ تو خیموں کا انتظام کیا گیا اور کچھ لوگوں نے اینٹوں پر چٹائیاں وغیرہ ڈال کر رہنے کیلئے جھونپڑیاں بنا لیں ۔ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم بھی وہیں جا کر رہے۔ آپ کی طبیعت بڑی جوش والی تھی ۔ جب احمدی نہیں ہوئے تھے تب بھی جو شیلی طبیعت رکھتے تھے۔ اور جب احمدی ہو گئے تب بھی طبیعت میں جوش رہا۔ آپ نصیحت میں ہمیشہ جلد بازی کیا کرتے اور آپ کی باتوں میں ایک جلال کا رنگ پایا جاتا تھا۔ آپ کی طبیعت کا اسی سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ ایک دفعہ ایک نو جوان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں کوئی امتحان دے کر قادیان آیا۔ اور مسجد میں اُس نے خوب رو رو کر دعا ئیں کرنی شروع کیں۔ اور خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے اور اس کی رحمت کو جذب کرنے کیلئے وہ یہ بھی دعا کیا کرتا کہ خدایا! میرے گناہ معاف کر اور بہت اونچی آواز سے رو رو کر دعائیں مانگتا۔ سترہ اٹھارہ سال اُس کی عمر تھی۔ حضرت مولوی عبدالکریم نے جب اسے روتا دیکھا تو سخت غصہ کی حالت میں کہنے لگے میرا جی چاہتا ہے اس لڑکے کو مسجد کی چھت سے اٹھا کر نیچے پھینک دوں ۔ اس نے گناہ ہی ایسے کون سے کئے ہیں جن کی وجہ سے یہ اس قدر چیخ رہا ہے تو ان کی طبیعت عجیب طرز کی تھی۔ اتفاق ایسا ہوا کہ جب وہ باغ میں گئے تو جو شہر میں ان کے ہمسائے تھے۔ وہی باغ میں ہمسائے ہو گئے۔ لیکن شہر میں ہمسائگت کے باوجود مکانوں میں پندرہ میں گز کا فاصلہ تھا۔ اور وہ اوپر رہتے اور مولوی عبد الکریم صاحب نیچے کے مکانوں میں ۔ مگر باغ میں بالکل قریب قریب جگہ ملی۔ اُن صاحب کے بچوں کو رونے کی زیادہ عادت تھی۔ میں ان کا نام اس ۔ لئے نہیں لیتا کہ وہ زندہ ہیں۔ مولوی عبدالکریم صاحب نے جب ان بچوں کا شور سنا تو انہیں سخت تکلیف ہوئی۔ آپ نے انہیں بلا کر ایک دفعہ نہایت جوش سے کہا۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ سارا دن آپ کے بچے شور مچاتے ہیں۔ میں دُور بیٹھا ہوا ہوتا ہوں لیکن میرے کان کھائے جاتے ہیں۔ ایک آپ ہیں کہ پاس بیٹھے رہتے ؟ ہیں اور آپ کی طبیعت پر ذرا اثر نہیں ہوتا، بچوں کو شور کرنے سے باز رکھو ۔ مولوی عبد الکریم صاحب کی اپنے رنگ کی طبیعت تھی ، انہوں نے نہایت جلال میں یہ کہا۔ آگے ان کی طبیعت نہایت نرم تھی ۔ وہ مسکرا کر نہایت آہستگی سے کہنے لگے مولوی صاحب ! جب مجھے پاس بیٹھے غصہ نہیں آتا تو آپ کو 114