خطبات محمود (جلد 14) — Page 115
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء پیش کی جاتی ہے تو وہ کہتا ہے جس حالت میں ایک چیز میرے سامنے پیش کی گئی ہے، میں کیوں اسے اسی صورت میں مان لوں ۔ ایک شخص اگر نیک سمجھا جاتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ میں بھی اسے نیک تسلیم کروں ۔ یہی تردد ہے جو ایمان کی کمزوری کی حالت میں بدظنی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اسی طرح ہزاروں ایسے انسان ہو سکتے ہیں جو ایک ہی دائرہ کے اندر گھومنے والے ہوں ۔ مگر ایک تو اس دائرہ میں چکر کاٹ کر صدیقیت کے مقام تک پہنچ گیا ہو اور ایک کافر بن گیا ہو۔ ایک بد ظنی کی صورت میں ابو جہل ہو گیا ہو۔ اور دوسرا احتیاط کی صورت اختیار کر کے ابوبکر بن گیا ہو۔ اور اگر مختلف دائرے ہوں تب بھی اس کیلئے خدا نے دو صورتیں مقرر کی ہیں۔ اور وہ یہ کہ جس حد تک کوئی شخص کسی برائی کے ازالہ کیلئے کوشش کر سکتا ہے ، اس حد تک کوشش کرنے کے باوجود اگر اس کے اعمال میں بعض کمزوریاں باقی رہیں تو اللہ تعالیٰ ان کمزوریوں کو اپنے فضل سے ڈھانپ دیتا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ اگر سوال بھی کرتا ہے۔ تو ان امور کے متعلق جو اس کے دائرہ کے اندر ہوں ۔ اور جو اس کے دائرہ عمل سے باہر ہوں ان کے متعلق سوال نہیں کرتا۔ کیونکہ سوال تبھی کیا جا سکتا ہے جب کسی کے اندر ایک چیز کا مادہ رکھا گیا ہو اور اس نے اس سے کام نہ لیا ہو۔ مگر جس چیز کا مادہ ہی انسان کے اندر نہ رکھا گیا ہو اس کے متعلق سوال کیا کیا جا سکتا ہے، کیا ایک نابینا سے خدا تعالیٰ پوچھ سکتا ہے کہ اس نے دیکھا کیوں نہیں ۔ یا ایک بہرے سے سوال کر سکتا ہے کہ اس نے سنا کیوں نہیں ۔ اسی طرح ایک ایسے انسان سے جس کے اندر بعض باتیں طبعی طورپرنہیں طور پر نہیں پائی جاتیں وہ یہ یہ سوال نہیں کرے گا کہ تم نے نے ایساکیوں ایسا کیوں نہیں کیا ، کیونکہ وہ لوگ عمل کرنے سے معذور ہوتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دفعہ ایسی ہی دو مختلف طبیعتیں رکھنے والوں کا اجتماع ہو گیا ۔ ۴۔ اپریل ۱۹۰۵ء کو جو خطرناک زلزلہ آیا اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو زلازل کے متعلق کثرت سے الہامات ہوئے ۔ آپ خدا تعالیٰ کے کلام کا ادب اور احترام کرتے ہوئے باغ میں تشریف لے گئے۔ کئی بیوقوف کہہ دیا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام طاعون سے ڈر کر باغ میں چلے گئے۔ اور تعجب ہے کہ میں نے بعض احمد یوں کے منہ سے بھی یہ بات سنی ہے حالانکہ طاعون کے ڈر سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کبھی اپنا گھر نہیں چھوڑا۔اُس وقت چونکہ زلازل کے 113