خطبات محمود (جلد 14) — Page 98
خطبات محمود رکھنا چاہیے۔سال ۱۹۳۳ء ہے دوسرے اس امر کو مد نظر رکھنا چاہیئے کہ مخاطب اور مخاطب کا ایک تعلق ہوتا ہے۔وہ آپس میں بعض دفعہ بعض مجبوریوں کی وجہ سے ایک رنگ کی شدت کا پہلو بھی اختیار کرلیتے ہیں یا اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ایسے موقع پر سامعین کو اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہیئے اور دوسرے کی گفتگو پر ہنسنا نہیں چاہیے۔کیونکہ گفتگو کا اصل مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ اس شخص کو ہدایت حاصل ہو۔لیکن اگر گفتگو کے ضمن میں ایسا رنگ پیدا ہو جائے جس سے اس کے دل میں تعصب پیدا ہو جانے کا خطرہ ہو، تو وہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔میں نے دیکھا ہے نوجوان اور خصوصاً طالب علم، اگر بعض دفعہ کوئی ایسا جواب دیا جا رہا ہو جو دوسرے کے کسی نقص کو نمایاں کرنے والا ہو، تو ہنس پڑتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سائل سمجھتا مجھے لوگوں کی نگاہ میں بیوقوف بنایا گیا۔اور اُن کے ہنس پڑنے سے وہ خیال کرتا ہے کہ اس گفتگو کا مقصد مجھ پر ہنسی اُڑانا ہے، بات سمجھانا مد نظر نہیں۔اس وجہ سے اس کے اندر نفسانیت کا جذبہ پیدا ہو جاتا اور حق کے قبول کرنے سے وہ محروم رہ جاتا ہے۔پس جو لوگ ایسے موقع پر جبکہ امام کسی کو ہدایت دینے کی فکر میں ہوتا ہے، ہنس پڑتے ہیں وہ دراصل اس کی شخص کو ہدایت۔سے محروم کرنے کی فکر میں ہوتے ہیں۔ان کے نزدیک ہنسی ایک معمولی چیز ہوتی ہے مگر جس پر ہنسی اُڑائی جاتی ہے، اس کے نزدیک خطرناک حملہ ہوتا ہے۔پس دوستوں کو چاہیے کہ اگر دورانِ گفتگو میں کوئی ایسا جواب دیا جائے جس سے ہنسی آسکتی ہو یا دوسرے کی کسی کمی کو نمایاں کر کے دکھایا جائے تو وہ اپنے جذبات کو دبائے رکھیں۔جواب دینے والا تو مجبور ہے کہ وہ ایسے نمایاں طور پر کسی کا نقص بیان کرے کہ اُسے اپنی غلطی کا احساس و جائے مگر ہنسنے والا اس مقصد پر پردہ ڈال دیتا اور سائل یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ان کا مقصد مجھے غلطی بتانا نہیں بلکہ بیوقوف بنانا ہے۔رسول کریم ﷺ کے صحابہ کے متعلق ایک حدیث آتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ رسول کریم ﷺ کی مجلس میں بیٹھتے تو یوں معلوم ہوتا کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ سوالات نہیں کرتے تھے۔ان سے زیادہ سوال کرنے والا ہمیں کوئی نظر نہیں آتا۔حدیثیں ان کے سوالات سے بھری پڑی ہیں۔بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جب رسول کریم کلام کر رہے ہوتے تو وہ ہمہ تن گوش ہو جاتے۔اور یوں معلوم ہوتا کہ گویا ان کے سروں پر