خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 92

خطبات محمود ۹۲ سال ۱۹۳۳ء ہو چکی ہے جب بھی کوئی نبی آیا۔اس نے اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھے فتح عطا کرے گا۔لیکن اس کے دشمنوں نے کہا کہ یہ چند روز کی بات ہے۔یہ اور اس کے ساتھی سب تباہ ہو جائیں گے اب دیکھ لو کس کی نگاہ ٹھیک نکلی۔انہی کی صحیح نکلی جنہوں نے خدا سے خبر پاکر اعلان کیا تھا۔جنہوں نے اپنی عقلوں سے دیکھا تھا ان کا اندازہ غلط نکلا۔لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ اگر ان کی فتح کے پس پردہ اور سامان نہ ہوتے تو دشمنوں کا وہ اندازہ جو انہوں نے ظاہری حالات کو مد نظر رکھ کر کیا تھا ضرور صحیح نکلتا۔ظاہری حالات کو دیکھتے ہوئے کون کہہ سکتا ہے کہ حضرت موسیٰ حضرت عیسی اور رسول کریم ﷺ اپنے دشمنوں پر فتح پاسکتے تھے مگر آخر یہی ہوا۔اور دنیا نے شکست کھائی۔ایسا ہی ایک نظارہ اس وقت ہمیں دکھائی دیتا ہے۔ایک انسان جو دنیا کی نظروں میں کمزور تھا۔اس نے کہا کہ میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو دوسرے نہیں دیکھ سکتے۔اور جو میں دیکھتا ہوں اگر سارے دیکھیں تو ولی اللہ ہو جائیں۔وہ نہیں جانتے کہ خدا کی تلوار اُن کی گردنوں پر رکھی ہوئی ہے۔اور غیب سے ان کی تباہی کے سامان ہو چکے ہیں۔ہاں اگر مجھے قبول کرلیں تو عذاب سے بچ جائیں گے۔لیکن اگر مجھے قبول نہیں کریں گے تو ایک دن آئے گا کہ وہ کہیں گے۔کاش! ہماری مائیں ہمیں نہ جنتیں۔یہ ویسا ہی عظیم الشان دعوئی ہے جیسا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کیا۔اور محمد رسول اللہ ا نے کیا۔اور دنیا نے بھی اس کی تضحیک اور تردید اس طرح کی جس طرح گزشتہ انبیاء کے مخالفوں نے کی تھی۔حتی کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے کہا کہ میں نے اسے بڑھایا تھا اور میں ہی اسے نیچے گراؤں گا۔لیکن ہوا کیا؟ باوجود اس کے ہر ایک نے اس کی مخالفت کی۔مگر اللہ تعالٰی نے جیسا کہ خبر دی تھی زور آور حملوں کے ساتھ اس کی سچائی کو ظاہر کیا۔دنیا نے اسے قبول نہ کیا مگر اللہ تعالٰی نے اسے قبول کیا۔وہ مخالفوں میں سے ایک ایک کو کھینچ کر لایا اور اس کے جھنڈے تلے کھڑا کر دیا۔مجھے حافظ روشن علی صاحب مرحوم کا ایک لطیفہ بہت پسند ہے۔اُن سے کسی کا مباحثہ ہوا۔اس نے کہا تم لوگ اپنی فتح کا اعلان کرتے پھرتے ہو۔یہ تو بتاؤ تم ہو کتنے؟ انہوں نے کہا کہ یہ جواب تو ایسا ہی ہے جیسے مرغابیاں ایک شکاری کو دیں جس کے پاس دو چار مرغابیاں ہوں لیکن وہ نہیں جانتیں کہ وہ جب بھی بندوق چلائے گا ان میں سے اور کئی مار لے گا اور پھر چلائے گا تو اور مارے گا آخر مرغابیاں ہی مرس گی۔پس حقیقت میں اللہ تعالی کی طرف سے پیدا شدہ سامانوں کو جولوگ دیکھتے ہیں ان کی ،