خطبات محمود (جلد 14) — Page 55
خطبات محمود ۵۵ سال ۱۹۳۳ء اپنی بیوی اور بچوں کی جان بھی قربان کرسکتے ہیں۔کیونکہ یہ ساری چیزیں قومی ترقی کیلئے قربان کردی جایا کرتی ہیں۔اور دنیا میں یہ تمام چیزیں لوگ قوم کیلئے قربان کرتے چلے آئے ہیں۔مذہب کیلئے وہ قربانی ہونی چاہیے جو اس سے زیادہ اہم ہو۔بھلا کون سا وہ ملک ہے، جہاں کسی نہ کسی وقت لوگوں نے اپنی بیوی بچوں کو ملک کیلئے قربان نہیں کیا۔کون سا وہ ملک ہے جس نے مالی قربانی نہیں کی۔کون سا وہ ملک ہے جس نے جانی قربانیاں دنیا کے سامنے پیش نہیں کیں۔ہر ایک نے کیں، کسی نے آج اور کسی نے گل۔حضرت آدم سے لیکر آج تک لوگ بہ قربانیاں کرتے چلے آئے کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔اگر آج مصریوں میں قربانیاں نہیں تو کسی وقت ان میں بھی قربانیاں تھیں۔یا اگر ہمیں نظر آتا ہے کہ ہندوستان اب ایسی قربانیاں پیش نہیں کرتا تو کسی وقت اس نے بھی پیش کی تھیں۔غرض یہ سب قربانیاں ہوتی چلی آئی ہیں مگر ان کا مذہب کی سچائی سے کوئی تعلق نہیں۔اور نہ ہی ان قربانیوں کو مذہب میں یقین کا " نتیجہ کہا جاسکتا ہے۔زیادہ لوگ یہ کہیں گے کہ یہ ایک قومی تعصب ہے۔انہوں نے کہا تو پھر آپ ؟ زیادہ سے کس قربانی کو یقین کے ثبوت میں اپنی طرف سے پیش کرنا چاہتے ہیں۔میں نے کہا آپ قوم کی خاطر اپنے بیوی بچوں کو قتل کرا سکتے ہیں۔یہاں تک کہ ان کی روحانیت کو بھی تباہ کر سکتے ہیں۔مگر ایک چیز ہے جسے کوئی سمجھدار قربان کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔اور میں اس کی مثال میں کہتا ہوں کہ میں قرآن ہاتھ میں لے کر یہ کہتا ہوں کہ مجھے یقین ہے کہ یہ خدا تعالی کا کلام ہے۔اور مجھے یقین ہے کہ میرا اسے خدا تعالیٰ کا کلام سمجھنا نہ صرف دلائل اور شواہد وبینات مبنی ہے بلکہ مشاہدہ پر اس کی بنیاد ہے۔اور میں اس یقین کی بناء پر کہتا ہوں کہ اے خدا! اگر یہ بات غلط ہے، اگر یہ تیری طرف سے نازل کردہ کلام نہیں، اگر تو نے اسے دنیا کی راہنمائی کیلئے آخری شرعی کتاب کی صورت میں نازل نہیں فرمایا۔اور اگر محمد ال تیری طرف۔نہیں بلکہ ان کا دعوئی ان کے نفس کا افتراء تھا تو اے خدا! مجھے کو اور میرے بیوی بچوں اور اولاد کو ہمیشہ کیلئے اس دنیا اور آخری جہان میں ہر قسم کی نیکیوں سے محروم کردے۔اگر آپ کو آریہ سماج کے سچا ہونے پر یقین ہے تو ایسی ہی دعا آپ بھی کریں۔وہ کہنے لگے آپ میرے بیوی بچوں کا کیوں ذکر کرتے ہیں۔میں نے کہا جب آپ کو اپنے مذہب کی صداقت پر کامل یقین ہے تو ان کا ذکر کرنے سے آپ کا کیا نقصان۔وہ کہنے لگے یہ بہت بڑی بات ہے کہ