خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 28

خطبات محمود ۲۸ سال ۱۹۳۳ء ہو رہی ہے، چلو میرا مکان قریب ہی ہے۔اس میں آرام کرو۔مگر دل میں اسے لوٹنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے اس سے ہمدردی کی اور میں دوسروں کیلئے قربانی کرتا ہوں۔یا جس طرح لوگ مچھلیوں کو آٹا ڈالتے ہیں مگر اس سے مقصد انہیں پکڑنا ہوتا ہے۔اس۔۔لئے یہ قربانی نہیں کہلا سکتی کیونکہ اس میں اپنا فائدہ ہے۔اور قربانی وہ ہے جس میں دوسرے کو فائدہ پہنچے اور اپنا نقصان ہو۔لیکن جب کوئی کام اپنے فائدہ کو مد نظر رکھتے ہوئے یا ریاء کیلئے کیا جائے تو وہ قربانی نہیں کہلا سکتا۔مثلاً اگر کوئی نماز اس لئے پڑھتا ہے کہ مسلمانوں کے گھر پیدا ہوا ہوں اگر نہ پڑھی تو لوگ طعن کریں گے ، تو یہ اس کیلئے ثواب کا موجب نہیں ہو سکتی۔غرض جو کام اپنے فائدہ کیلئے یا دوسروں کو اپنی طرف مائل کرنے یا ان سے اپنی تعریف کرانے کیلئے کیا جائے، اس کا کوئی ثواب نہیں مل سکتا۔پھر جو کام عادتا کئے جاتے ہیں، ان کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔دیکھو بعض لوگ کبڑے چلتے ہیں۔لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ انہوں نے بوجھ اُٹھایا ہوتا ہے۔اسی طرح بعض لوگ روزے محض اس لئے رکھتے ہیں کہ ان کے ماں باپ رکھتے تھے، اس سے انہیں بھی عادت ہو گئی تو یہ کوئی ثواب کا کام نہیں۔۔پس جو کام ریاء کیلئے یا ذاتی اغراض کے ماتحت یا عادتاً کیا جائے وہ قربانی نہیں کہلا سکتا۔قربانی وہ ہے کہ کوئی کام اس لئے کیا جائے کہ یا خدا راضی ہو جائے اور یا اس کے بندوں کو فائدہ پہنچے۔اور نماز روزہ سے یہ مقصود ہے کہ انسان کے اندر رقت اور درد پیدا ہو۔اسی طرح صدقہ و خیرات اور چندوں کا یہ مقصد ہے کہ بندوں کے ساتھ مہربانی کی عادت پیدا ہو۔لیکن اگر یہ نیکیاں کسی عادت کے ماتحت یا ریاء کے طور پر یا کسی اور غرض کو مد نظر رکھ کر کرتا ہے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے مچھلی کو آٹا ڈالنا۔ایک شخص بارش کے بعد مکان کی چھت پر دانہ ڈالتا ہے تا چڑیاں اور پرندے وغیرہ سیر ہو سکیں۔لیکن چڑی مار بھی جانوروں کیلئے دانہ ڈالتا ہے جس کا مقصد چڑیوں کو پھنسانا ہوتا ہے۔ان دونوں میں کتنا فرق ہے۔ایک کی غرض دوسروں کو فائدہ پہنچانا ہے مگر دوسرے کی غرض اپنی ذات کو فائدہ پہنچانا ہے۔اسی طرح ایک زمیندار اپنے کھیت میں دانہ ڈالتا ہے اور ایک کوٹھے پر پرندوں کے کھانے کیلئے ڈالتا ہے۔ان دونوں میں بھی کتنا فرق ہے ایک اپنے نفع کیلئے ڈالتا ہے اور دوسرا بظاہر ضائع کر رہا ہے لیکن خدا کی دوسری مخلوق کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔تو یاد رکھنا چاہیے کہ اصل چیز نیت ہے۔اگر نیت درست ہو تو کام بھی اچھا ہو گا۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے الاعمال بالنيات له - ظاہری شکل پر نتائج ال الْأَعْمَالُ