خطبات محمود (جلد 14) — Page 253
خطبات محمود ۲۵۳ سال ۱۹۳۳ء دیکھو زمیندار جب زمین میں کوئی چیز ہونے لگتا ہے تو پہلے اسے بیج ڈالنے کیلئے تیار کرتا ہے۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایک ہی دن میں سخت زمین پر پانی کا چھینٹا دے دینے سے وہ تیار نہیں ہو سکتی۔پہلے زمین پر کہیں گھاس ہو گا، کہیں کسی اور چیز کی جڑیں ہوں گی۔پھر وہ سخت ہوگی اگر نہی بیج پھینک کر چلا آئے تو ہر شخص اسے بیوقوف کہے گا۔اسی طرح تبلیغ کیلئے بھی ہماری طرف سے اگر پہلے سے تیاری نہ ہوگی تو وہ پیج جو ہم پھینکیں گے وہ ضائع ہو جائے گا۔پس اخلاص اور محبت سے لوگوں کے قلوب کو اپنی طرف مائل کرو تا جب تم تبلیغ کیلئے جاؤ تو ان کے دل احمدیت کے متعلق اچھے خیالات سے لبریز ہوں اور تمہاری باتوں کا ان پر اثر ہو۔باقی اگر کوئی مخالف سختی کرتا ہے اور کوئی احمدی سختی کی وجہ سے بھاگ آتا ہے تو وہ بزدلی سے کام ہے۔مومن کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ جب تک یہ سمجھتا ہے کہ ابھی پیغام نہیں پہنچا اپنے مقام سے نہیں ہوتا اور جب دیکھتا ہے کہ پیغام پہنچ گیا تو چلا آتا ہے کیونکہ واپس تو آخر آتا ہی ہوتا ہے۔رسول کریم ان کا نمونہ یہی ہے آپ جب طائف تشریف لے گئے تو جتنی باتیں آپ سنا سکے سنادیں۔اور جب لوگوں نے کہا کہ ہم باتیں سننے کیلئے تیار نہیں تو آپ واپس تشریف لے آئے۔مگر واپسی کے وقت کفار نے آپ کے پیچھے بچے اور کتے لگادیئے۔بچے آپ پر پھر پھینکتے اور کتے کاٹتے۔مگر باوجود اس کے رسول کریم راستہ میں یہی دعا کرتے رہے کہ الہی! ان پر رحم کر میری قوم نے مجھے پہچانا نہیں ہے۔جو شخص بھی آپ کو اس حالت میں دیکھتا وہ خیال ہی نہیں کر سکتا تھا کہ آپ بزدل ہیں بلکہ ہر شخص۔کہتا کہ کیا کوہ وقار ہے۔لیکن ایسی ہی صورت میں اگر کوئی شخص دوڑتا جائے پیچھے بچے اور کتے لگے ہوئے ہوں اور وہ شور ڈالتا جائے کہ مرگیا، مرگیا مرگیا تو ہر شخص کہے گا کہ یہ بزدل ہے۔پس دونوں حالتوں میں فرق ہے اور ہر شخص کی حالت بتا سکتی ہے کہ وہ بزدلی دکھا رہا ہے یا بہادری۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہر ایسے مقام پر کھڑے رہنا چاہیئے جہاں تشدد ہو۔اگر چہ بعض جگہ کھڑا رہنا بھی ضروری ہوتا ہے۔مثلاً طائف سے تو رسول کریم ﷺ واپس آگئے مگر حسین کے موقع پر آپ نے کہا چھوڑ دو میرے گھوڑے کی باگ کو اور گھوڑے کو ایڑ لگا کر دشمن کی طرف بڑھے۔گویا آپ نے دونوں نظارے دکھلا دیئے۔ایک جگہ کچھ بچے اور کہتے آپ کے پیچھے ڈالے گئے اور آپ واپس آگئے۔کیونکہ آپ نے سمجھا کہ آپ جو پیغام پہنچانا چاہتے تھے وہ پہنچا چکے۔مگر دوسری جگہ جب کہ چار ہزار تیرانداز سامنے تھے اور صرف بارہ صحابہ آپ کے پاس رہ گئے تھے ، آپ نڈر