خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 199

خطبات محمود معلوم ١٩٩ سال ۱۹۳۳ء ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی یہی طریق تھا کہ اگر امام اپنی ذمہ داریوں کی وجہ سے دیکھے کہ اب نمازوں کا جمع کرادینا مناسب ہے تو وہ نماز جمع کرا سکتا رسول کریم ال کے متعلق ثابت ہے کہ آپ نے بغیر کسی ایسی ظاہری وجہ کے جو لوگوں کو ہو۔نمازیں جمع کرائیں ہے۔اور آپ کے ساتھ صحابہ بھی نمازیں جمع کر لیتے تھے۔اسی طرح سفر پر جاتے وقت جب رسول کریم ان نمازیں جمع کرتے تو دوسرے لوگ بھی نمازیں اکٹھی پڑھتے۔حالانکہ ان میں ایسے بھی ہوتے جو سفر پر جانے والے نہ ہوتے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیماری کی وجہ سے گھر میں نمازیں جمع کرلیتے۔جن میں گھر کے اور لوگ بھی شامل ہو جاتے۔اعجازا مسیح کی تحریر کے وقت ستر دن تک ظہر و عصر کی نمازیں جمع ہوتی رہیں۔حالانکہ نہ بارش ہوتی اور نہ کوئی اور وجہ تھی۔مگر جب آپ جمع کرتے تو دوسرے بھی جمع کر لیتے تھے۔پس یہ تو جائز ہے اور اگر میری طرف سے اعلان ہوتا کہ میں نمازیں جمع کراؤں گا تو لوگ انتظار کر سکتے تھے۔پھر جمع دونوں وقت ہو سکتی ہیں۔پہلے وقت میں بھی اور آخر وقت میں بھی۔پس اگر میں نے کہا ہوتا اور لوگ انتظار کرتے رہتے تو جائز تھا۔لیکن یہاں قرائن قوی موجود ہیں کہ دیر ہوئی۔اور لوگوں نے بغیر نمازوں کے جمع کرنے کی اطلاع کے نماز نہ پڑھی۔حالانکہ میں نے کہہ دیا تھا کہ میں نہیں آسکتا۔یہ ادب نہیں بلکہ بے ادبی ہے۔کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی بے ادبی ہوتی ہے۔پس میں آئندہ کیلئے اعلان کرتا ہوں کہ دوستوں کو چاہیے اس بارے میں احتیاط رکھیں۔اس کے بعد میں دوسرا مسئلہ لیتا ہوں۔اس کے متعلق مجھے دو مہمانوں کی طرف سے رپورٹیں پہنچیں اور وہ نہایت ہی تکلیف دہ ہیں۔تمام دوستوں کو معلوم ہے کہ قریباً دو تین سال سے حلق کی خرابی کی وجہ سے میں قرآن مجید کا درس نہیں دے سکا۔سال میں دو تین مہینے مجھے شدید کھانسی رہتی ہے اور اس دفعہ تو اس کا دوسرا دورہ بھی شروع ہو گیا۔جلسہ سالانہ سے کھانسی کا دورہ شروع ہوا اور اپریل میں ختم ہوا۔اور اب سوا مہینے سے پھر کھانسی شروع ہے۔جن لوگوں نے نمازوں میں میری پہلی آواز سنی ہے، وہ جانتے ہیں کہ اب میری آواز بھرائی ہوئی ہوتی ہے اور موجودہ اور پہلی آواز میں نمایاں فرق ہے۔اس وقت اور مجبوری کی وجہ سے میں درس نہیں دے سکتا۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں نے درس دینے کا ارادہ چھوڑ دیا ہے۔نیت ہمیشہ یہی رہتی ہے۔کہ اگر اللہ تعالیٰ ذرا بھی افاقہ دے تو میں پھر درس دینا شروع کردوں۔لیکن جب تک بھی یہ روک ہے