خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 198

خطبات محمود ۱۹۸ سال ۱۹۳۳ء رم وجہ سے نماز کا وقت فوت کر دیا جائے۔مگر معلوم ہوتا ہے بعض لوگ یاد دہانی کے محتاج ہوتے ہیں اور انہیں پچھلی باتیں بھول جاتی ہیں۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس موقع پر پھر یہ بات بیان کردوں تاکہ زیادہ لوگ اس مسئلہ سے آگاہ ہو سکیں کہ جب کبھی نماز میں دیر ہونے لگے یا ایسے حالات ہوں جیسا کہ کل تھے تو نماز پڑھ لینی چاہیئے۔مثلاً کل کے حالات ایسے تھے کہ سب کو معلوم تھا، میں بیمار ہوں۔اور یہ قیاس کر لینا آسان تھا کہ جب میں باقی نمازوں میں نہیں آیا تو اس نماز میں نہیں آسکوں گا۔ایسے وقت میں اپنے میں سے کسی کو آگے کھڑا کر کے نماز پڑھ لینی چاہیئے تھی۔جیسا کہ رسول کریم اے کہیں دور نہیں گئے تھے بلکہ نواحی مدینہ میں ہی تھے لیکن صحابہ نے یہ خیال کر کے کہ اگر رسول کریم ای آنا بھی چاہیں تو نماز کے وقت نہیں پہنچ سکتے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اقتداء میں نماز ادا کرلی۔یہی سنت ہے اور یہی صحیح طریق ہے۔اس میں شبہ نہیں۔نمازوں کو جمع کرکے ادا کر لینا بھی جائز ہے۔مگر اس طرح امام کا ارادہ معلوم ہونے کے بعد ہوتا ہے۔جب ایسی اطلاع نہیں تھی تو اس کے یہی تھے کہ نمازیں الگ الگ ادا ہوں گی۔اور جب مغرب کا وقت ہو چکا تھا تو لوگوں کا فرض تھا کہ اگر ان میں وہ لوگ ہوتے جن کے متعلق میں نے کہا ہوا ہے کہ اگر میں نہ آسکوں تو فلاں شخص نماز پڑھا دیا کریں۔اور اگر وہ بھی نہ ہوں تو فلاں شخص تو انہیں آگے کھڑا کر کے نماز پڑھ لیتے۔اور اگر ان میں سے کوئی نہ ہوتا تو اپنے میں سے کسی کو بھی کھڑا کر کے نماز ڑھی جاسکتی تھی۔اس میں مسجد مبارک یا مسجد اقصیٰ کا کوئی امتیاز نہیں۔بلکہ جس مسجد میں بھی وقت تنگ ہونے لگے اور یہ شبہ ہو جائے کہ اگر امام کا اور انتظار کیا گیا تو شاید نماز کا وقت جاتا رہے تو اپنے میں سے کسی شخص کو کھڑا کر کے نماز ادا کر لیا کریں۔خواہ میں امامت کراتا ہوں یا کوئی اور اس لحاظ سے مسجد مبارک یا مسجد اقصیٰ اور دیگر مساجد میں کوئی امتیاز نہیں۔نماز خدا تعالیٰ کے احکام میں سے ہے۔اور اس کے احکام کا ایک نبی بھی ویسا ہی تابع ہوتا ہے جیسا کہ کوئی اور شخص۔ہاں اللہ تعالٰی نے ائمہ دین کو ان کے کاموں کے لحاظ سے اس بات کی اجازت دی ہے کہ اگر وہ ضرورت محسوس کریں تو نمازیں جمع کرلیا کریں۔رسول کریم اے نے بھی اس طرح نمازیں جمع کرائی ہیں۔گو میں نے قرآن مجید پر اس مسئلہ کے لحاظ سے ابھی تک غور نہیں کیا۔ممکن ہے اس میں بھی یہ مسئلہ مل جائے۔لیکن رسول کریم ﷺ کی سنت سے تو بہر حال ثابت ہے۔۔