خطبات محمود (جلد 14) — Page 197
خطبات محمود 192 سال ۱۹۳۳ء بعد میں کھڑے ہو کر جو صحیح طریق ہے۔اس سے آگاہ کیا تھا۔مگر مجھے افسوس سے معلوم ہوا ہے کہ پھر ویسی ہی غلطی ہوئی۔کل صبح کی نماز پڑھانے جب میں مسجد میں آیا تو وہاں سے جاتے ہی مجھے کچھ حرارت اور سینہ اور سر کے درد کی تکلیف ہو گئی جس کی وجہ سے میں سارا دن نمازوں میں نہ آسکا۔جیسا کہ یہاں طریق ہے اور جیسا کہ ہونا چاہیے کیونکہ کسی کو معلوم نہیں ہو سکتا کہ بیماری کب آتی ہے اور کب دور ہو جاتی ہے۔ہر نماز کے وقت موذن دریافت کرلیتا ہے کہ آیا میں نماز پڑھانے کیلئے آؤں گا یا نہیں۔اسی طرح کل بھی مؤذن آتا رہا اور میں جواب دیتا رہا کہ میں نہیں آسکتا۔مغرب کے وقت بھی وہ آیا اور میں نے کہا کہ میں نہیں ہے آسکتا۔لیکن وہ خادمہ جس نے یہ پیغام پہنچایا' اس نے بجائے یہ کہنے کہ میں نہیں آسکتا یہ کہہ دیا کہ میں ابھی آتا ہوں۔معلوم ہوتا ہے وہ مؤذن بھی ناواقف ہے۔کیونکہ پہلے اس نے شروع وقت میں اطلاع دی تھی۔اگر واقف ہوتا تو پانچ سات منٹ کے بعد پھر دریافت کرلیتا لیکن و خاموش بیٹھا رہا۔یہاں تک کہ جب مغرب کی نماز کا وقت ختم ہونے میں دو چار منٹ ہی باقی رہ گئے۔تو اُس نے پھر مجھے آواز دی۔میں نے خیال کیا کہ چونکہ یہ دُور جگہ ہے (اُس وقت حضور کو بھی دارالحمد میں تشریف رکھتے تھے۔اس لئے وہ ذرا پہلے عشاء کی نماز کی اطلاع دینے آگیا ہے۔لیکن میرے دریافت کرنے پر اُس نے کہا کہ میں مغرب کے وقت سے ہی بیٹھا ہوا ہوں اور مغرب کی نماز کی اطلاع دے رہا ہوں۔کیونکہ خادمہ نے آپ کے متعلق کہا تھا کہ ابھی آتے ہیں۔وہ ایسا تنگ وقت کہ میں سمجھا اگر لوگ اس کی اطلاع کے انتظار میں ابھی تک ہوئے ہیں اور انہوں نے نماز نہیں پڑھی تو پھر مغرب کا وقت گزر گیا۔اس لئے بے اختیار میرے منہ سے نکلا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کاش! لوگوں نے اتنی سمجھ کی ہو کہ نماز پڑھ لی ہو۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ معلوم ہوا کہ لوگوں نے اُس وقت تک نماز نہیں ھی تھی۔اور وہ اطلاع دینے والے کے انتظار میں رہے۔حالانکہ میں نے ایک دفعہ مسجد مبارک میں کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا اور بتایا تھا کہ رسول کریم ﷺ ایک دفعہ کسی جھگڑے کو طے کرنے کیلئے نواحی مدینہ میں تشریف لے گئے۔جب نماز کا وقت تنگ ہونے لگا تو صحابہ نے حضرت ابو بکر میں بیٹی کو آگے کھڑا کر کے ان کی اقتداء میں نماز ادا کر لی اے۔جب رسول کریم ا کی موجودگی میں صحابہ اس خیال سے ایک شخص کو آگے کھڑا کر لیتے ہیں کہ نماز کا وقت فوت نہ ہو جائے تو اور کوئی انسان اس پایہ کا نہیں ہو سکتا کہ اس کی عدم موجودگی کی