خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 128

سال ۱۹۳۳ء خطبات محمود مطمئن ۱۲۸ میری ایک بیوی اپنے بھائی کے ہاں تھیں۔انہیں کہلا بھیجا کہ اگر جاتا ہو تو تیار ہو جاؤ۔اور دوسری طرف حالات دریافت کرنے کیلئے تار لکھ کر شیخ یوسف علی صاحب پرائیویٹ سیکرٹری کو دیا۔لیکن مجھے یہ وہم بھی نہ تھا کہ ایسے ضروری تار کیلئے یہ کہنے کی ضرورت ہے کہ ایکسپریس بھیجا جائے۔انہوں نے آرڈنری بھیج دیا جو وفات کے پندرہ منٹ بعد یہاں پر پہنچا۔اُدھر میں تھا کہ اس وقت تک جو جواب نہیں آیا تو آرام ہی ہوگا۔اور میں نے یہ خیال کیا کہ شیخ صاحب نے ایسی بیوقوفی کہاں کی ہوگی کہ آرڈنری (ORDINARY) تار دیا ہو۔یقیناً آرام ہوگا جو اب تک جواب نہیں آیا۔میرا ذہن بھی اس طرف نہیں گیا کہ شیخ صاحب نے ایسی غلطی کی ہے۔میں جواب نہ ملنے کے یہی معنی سمجھتا رہا کہ آرام ہے۔کیونکہ جب آرام ہو تو تار دینے کی جلدی نہیں ہوا کرتی۔جب وفات کی خبر ملی تو یہاں پہنچنے تک مجھے یہ رنج رہا کہ جلد تار کا جواب کیوں نہیں دیا گیا۔مگر یہاں آکر معلوم ہوا کہ وہ وفات کے پندرہ منٹ بعد یہاں پہنچا تھا۔یہ غلطی راولپنڈی میں میری موجودگی میں ہوئی۔پس میں اس غلطی کو ایک نادانستہ غلطی سمجھتا ہوں۔لیکن ساتھ ہی یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ایک غلطی تھی۔ایسے موقع دوستوں کو اطلاع ہونی چاہیے تھی تا دعا کی تحریک ہو۔اور اس کیلئے مقامی امیر کو فوراً اطلاع دینی چاہیے تھی۔وہ فوراً اطلاع کرتے اور دوستوں کو اطلاع ہو جاتی۔پھر فوراً میری طرف بھی ع بھیجنی چاہیے تھی۔اگر مجھے رات کو ہی تار دے دیا جاتا تو وہاں کثرت سے ہوائی جہاز ملتے ہیں۔ممکن تھا اگر انتظام ہو سکتا تو میں ایک گھنٹے میں یعنی صبح سات آٹھ بجے تک یہاں پہنچ سکتا۔پھر اگر آپریشن ہونا ہوتا تو میرے سامنے ہوتا اور اگر وفات ہی مقدر تھی تو وہ بھی میرے اطلاع سامنے ہوتی۔اپک دوسری احتیاط جو ضروری تھی یہ ہے کہ زچگی بہت بڑی تکلیف کا موجب ہوتی ہے خصوصاً دوسری بار تو ہر عورت یہی سمجھتی ہے کہ وہ مر جائے گی سوائے اُجڑ جاہل عورتوں کے جن کی حس مردہ ہو چکی ہو۔سب تعلیم یافتہ اور سمجھدار عورتیں ہر حمل کے موقع پر یہی کہتی اور ہیں کہ ہم اب کے مر جائیں گی۔مگر باوجود اس کے یہ صحیح نہیں ہوتا۔اس لئے جو عورت ایسا کیے اس کے متعلق سمجھ لینا کہ کوئی خاص بات ہے یہ تو صحیح نہیں مگر باوجود اس کے اس میں کلام نہیں۔اطباء اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ زچگی کے بعد عورت کو نئی زندگی حاصل ہوتی ہے۔پھر کسی کا یہ خیال کرنا کہ کسی کے مشورہ کی ضرورت نہیں، بالکل غلط بات ہے۔قادیان