خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 110

خطبات محمود ۱۳ سال ۱۹۳۳ء جذبات فطرت کو کچلنے کی بجائے انہیں شریعت کے ماتحت رکھو (فرموده ۵ - مئی ۱۹۳۳ء) ہے تشهد تعوز اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے فرمایا:- انسانی اعمال ہمیشہ ایک دائرہ میں چکر لگاتے ہیں۔اختلاف نظر آتا ہے، امتیاز نظر آتا ہے ترقی نظر آتی ہے، منزل نظر آتا ہے مگر ان تمام امور کے باوجود ہر انسان کے اعمال میں ایک اتحاد کی صورت بھی ہوتی ہے۔مومن سے انسان کا فر ہو جاتا ہے، بدکار سے نیکوکار بن جاتا معمولی درجہ سے ترقی کرتے کرتے شہادت صدیقیت یا نبوت کے مقام تک جا پہنچتا ہے۔مگر باوجود اس کے اس کے کاموں میں اسی طرح ایک اشتراک کی حالت چلی جاتی ہے جس طرح مالا میں تاگا جاتا ہے۔بعض قسم کی مالاؤں میں کہیں سونے کے حصے پروئے ہوئے ہوتے ہیں، کہیں موتی۔پھر کہیں چھوٹے موتی ہوتے ہیں کہیں بڑے۔اور بعض میں مختلف قسم کے پتھر پر وئے ہوئے ہوتے ہیں مگر باوجود اس کے ان سب میں ایک اتحاد ہوتا ہے۔ایک تاگا ہوتا ہے جو سب کو پروئے رکھتا ہے۔یہ چیز ہے جسے بدلا نہیں جا سکتا۔اور اسی کے متعلق ایک روایت ہے جو بعض نے رسول کریم ﷺ کی طرف منسوب کی اور بعض کہتے ہیں کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص تجھے یہ خبر دے کہ احد پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل گیا تو تو اس کو مان لیجیئو لیکن اگر کوئی شخص تجھے یہ خبر دے کہ فلاں شخص کی طبیعت بدل گئی تو تو اسے نہ مانتا اے۔گویا احد پہاڑ کا اپنی جگہ سے ٹل جانا آسان ہے مگر انسانی طبیعت کا بدل جانا مشکل ہے۔