خطبات محمود (جلد 13) — Page 56
خطبات محمود ۵۶ ہے۔ہم سے پہلوں نے اہم پہلے ہی کہیں گے کیونکہ ان میں سے بعض وفات پاچکے ہیں اگر چہ بعض زندہ بھی ہیں) اس مسجد کو وسیع کیا تھا جس سے ہم نے فائدہ اٹھایا اب ہمیں چاہئے اسے اور وسیع کریں تا اگلے فائدہ اٹھائیں۔نیز مسجد میں جبکہ کی اس قدر تنگی ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے کہ یہ وقت ہے کہ ہم روحانی اور جسمانی طور پر پھیلیں خدا کی برکات کے نزول کی علامت ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ مومنوں پر عرصہ حیات تنگ ہونے دیتا ہے تا وہ زیادہ قوت کے ساتھ پھیلیں کیونکہ جتنا کسی طاقت والی چیز کو دبایا جائے اتنا ہی وہ زیادہ زورت باہر نکل کر پھیلنے کی کوشش کرتی ہے۔یورپین لوگوں نے ہوائی بندوقیں تیار کی ہوئی ہیں جن میں ہوا کی زیادہ مقدار کو ایک تنگ جگہ میں روک دیا جاتا ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب اسے چلایا جائے تو وہ کئی گز دور تک چھرہ پھینک سکتی ہے۔اسی طرح بعض جگہ تو ہوائی تو ہیں بھی بنائی گئی ہیں۔پس ہوا کو بھی اگر دبایا جائے تو وہ بھی زیادہ زور کے ساتھ باہر نکلتی ہے۔اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندوں کو دباتا ہے۔کبھی ان پر جگہ تنگ کرتا ہے ، کبھی دو سروں کو ظلم کرنے کا موقع دیتا ہے، کبھی وہ اپنے بڑھے ہوئے حوصلوں کے مقابل میں اپنے محدود سامان اور ذرائع کو دیکھ کر تنگ ہوتے ہیں حتی کہ وہ ہر طرف سے تنگ ہو کر ہوا کی طرح باہر نکلتے ہیں اور اپنے مقدور سے بہت دور تک بڑھ جاتے ہیں۔یہ رمضان کا مہینہ ہے جو خود ترقی کی طرف بلاتا ہے۔رمض کے معنے ہیں گرمی کا تیز ہو جانا۔بعض نادان خیال کرتے ہیں رمضان اسے اس لئے کہتے ہیں کہ اس کا گرمی سے تعلق ہے حالانکہ یہ سرا سر غلط ہے۔یہ کیونکر ہو سکتا ہے جبکہ رمضان ہمیشہ بدل بدل کر مختلف موسموں میں آتا ہے کبھی سخت گرمی میں اور کبھی سخت سردی میں۔اگر اس کا تعلق سمسی مہینوں سے ہو تا تو یہ معنی درست سمجھے جاسکتے تھے مگر اس کا تعلق قمری مہینوں سے ہے پھر اگر رمضان صرف عربوں کے لئے ہوتا تو کہا جا سکتا تھا کہ چونکہ وہ ملک گرم ہے وہاں کی گرمی کی وجہ سے اس کا یہ نام رکھا گیا۔لیکن اول تو اس کا تعلق قمری مہینوں سے ہے اس لئے سردی میں بھی آتا ہے۔مثلا آج کل کونسی گرمی ہے سحری کے وقت گرم کپڑا اوڑھ کر سحری کھائی اور نماز پڑھنی پڑھتی ہے۔اس وقت کی سردی مضبوط آدمی ہی برداشت کر سکتا ہے کئی کمزوروں کو ان دنوں نمونیا ہو جاتا ہے اس لئے گرمی سے تعلق ہونے کی وجہ سے اس کا نام رمضان نہیں پس اول تو عرب میں بھی یہ سردیوں میں آتا ہے لیکن اگر گر میوں میں بھی ہو تا تو محض اس وجہ سے اس کا نام رمضان اسی وقت رکھا جا سکتا تھا جب یہ صرف عرب کے لئے ہو تا لیکن دنیا میں کئی ممالک ایسے ہیں جہاں سارا سال ہی سردی رہتی ہے۔جیسے یورپ اور وہ مذہب