خطبات محمود (جلد 13) — Page 55
خطبات محمود ۵۵ سال ۱۹۳۱ء کی برکات کا ظہور آج ہم دیکھ رہے ہیں اعلان کیا کہ میری تائید اور امداد و نصرت سے ہی اس شخص کو شہرت حاصل ہوئی ہے۔میں نے ہی اسے بڑھایا ہے اب میں ہی اسے نیچے گراؤں گا لیکن جس مولوی نے یہ دعوی کیا اس کے در و دیوار گر گئے۔اس کی اولاد برباد ہو گئی سوائے شہاز کے جو اس کی شہرت کو حاصل کرنا تو درکنار اس کے قریب ترین مقام کو بھی حاصل نہ کر سکے۔اور عام لوگوں کی سی زندگی بسر کرتے ہیں۔اس کا کوئی بچہ تو مر گیا کوئی پاگل ہو گیا۔ایک کے متعلق تو سنا تھا کہ آریہ ہو گیا اور اس کے بعد جلد مر گیا۔گویا جس شخص نے کہا تھا کہ میں نے ہی اسے بڑھایا ہے اور میں ہی گراؤں گا وہ خود اپنے اعمال سے الجھ کر گر گیا۔لیکن وہ جسے اس نے گرانا چاہا تھا اس کی آواز کو خد اتعالیٰ نے دنیا کے کناروں تک پہنچا دیا اور اس قدر برکت اور ترقی دی کہ دنیا حیران ہے اور حیران ہوتی جائے گی یہاں تک کہ دنیا میں اسے ایسی قبولیت حاصل ہو جائے گی کہ لوگ خیال کریں گے شاید دنیا اس کی پیدائش کے دن سے ہی اسے مانتی چلی آئی ہے۔جیسے رسول کریم ﷺ کے دشمن آج خیال کرتے ہیں اور کہتے ہیں آپ پہلے دن سے ہی ترقی کے آثار لے کر آئے تھے۔انبیاء کے دشمن ایک زمانہ میں تو خیال کرتے ہیں ہم اسے مناڈالیں گے اس کی حقیقت ہی کیا ہے لیکن اور دوسرے زمانہ میں وہ خیال کرتے ہیں یہ شروع سے ہی اسی حالت میں چلا آرہا ہے کہ کوئی اس کا مقابلہ نہ کر سکے اور یہ بڑھتا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ہم نے خود وہ زمانہ دیکھا ہے جب دشمن کہتا تھا میں اسے مسل ڈالوں گا۔اب یہ دیکھنا باقی ہے جب دشمن یہ کہے گا کہ شروع سے ہی حالات ان کے لئے ساز گار تھے۔پس ایک زمانہ تو ہم دیکھ چکے ہیں جب کہا جاتا تھا یہ تعلیم پھیلنے والی نہیں اور اب بھی کہا جاتا ہے کیا ہوا اگر کچھ لوگ ایمان لے آئے عام طور پر لوگ ان باتوں کو مانے کے لئے تیار نہیں لیکن ایک زمانہ آئے گا جب کہیں گے بھلا ایسی باتوں کو بھی کوئی رد کیا کرتا ہے دنیا کا ان کو مان لینا کوئی تعجب کی بات نہیں۔دراصل جاہل اور عالم میں فرق یہی ہے کہ جاہل اس زمانہ کی خبر دیتا ہے جس سے وہ واقف نہیں ہو تا اور عالم صحیح واقفیت کی بناء پر خبر دیتا ہے اس زمانہ کے نہ ماننے والے اگلے زمانہ کی خبر دیتے ہیں کہ یہ تعلیم آہستہ آہستہ رد کر دی جائے گی۔لیکن اگلے زمانہ کے پیچھے کی خبر دیں گے کہ اسے کون رد کر سکتا تھا دنیا اس کے ماننے کے لئے بالکل تیار تھی کیونکہ یہ ضرورت زمانہ کے مطابق تھی۔اور اس طرح دونوں قسم کے لوگ اپنے زمانہ کے سوا دو سرے زمانہ کی خبر دیں گے اور یہی علامت جاہلوں کی ہوتی ہے۔لیکن اس ترقی کو دیکھ کر جہاں ہمیں خوشی ہے وہاں ہم پر ایک ذمہ داری بھی عائد ہوتی