خطبات محمود (جلد 13) — Page 596
خطبات محمود ۵۹۶ سال ۱۹۳۲ء احد کی جنگ کے ذکر ہی میں ایک اور صحابی کے متعلق آتا ہے کہ تیروں کی بوچھاڑ دیکھ کر انہوں نے آنحضرت ملی ایم کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا دیئے تاکہ آپ کو کوئی تیر نہ لگ جائے۔تیروں کے سامنے اپنے ہاتھ رکھنے کی وجہ سے آپ کا ہاتھ شل ہو گیا۔لیکن انہوں نے آنحضرت کے سامنے سے اپنا ہاتھ بٹا لینا گوارا نہ کیا۔ایک دوسرے صحابی کے متعلق مذکور ہے کہ وہ اپنی کمر تیروں کی طرف کئے رہے اور اف تک نہ کی۔حالانکہ تیر پر تیر پڑ رہے تھے۔جنگ کے بعد کسی نے ان سے دریافت کیا۔دریافت کرنے والے غالبا ان کے بیٹے تھے کہ کیا آپ کو اس وقت تکلیف نہیں ہوتی تھی۔انہوں نے کہا تکلیف تو ہوتی تھی لیکن میں اس خیال سے بھی نہیں کر سکتا تھا کہ مبادا اس طرح میری کمر مل جائے اور آنحضرت میر تک کوئی تیر پہنچ جائے اس قسم کی مثالیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ میں بھی پائی جاتی ہیں۔اور پائی جاتی رہی ہیں۔مثلاً افغانستان کے شہیدوں کو ہی لے لو۔ان میں سے قریباً ہر ایک کو موقع دیا گیا کہ وہ احمدیت چھوڑ کر اپنے آپ کو اس مصیبت سے بچالے۔لیکن ان میں سے ہر ایک نے انکار کر دیا اور صاف کہہ دیا میں اپنے دین سے نہیں پھر سکتا۔صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کے متعلق ایک غیر مذ ہب اور غیر ملک کا یعنی ایک اٹیلین لکھتا ہے کہ وہ اس وقت بھی جبکہ ان پر پتھر پڑ رہے تھے بڑے الحاح و زاری سے دعائیں مانگ رہے تھے کہ اے اللہ تعالٰی ان لوگوں کو معاف کر دے کہ یہ ناواقفیت کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں۔ایک اور شخص نے نعمت اللہ خان صاحب کے متعلق بیان کیا کہ انہوں نے زندگی کے آخری لمحے دعا کرتے ہوئے گزارے۔دنیا داروں کی نگاہ میں انہیں پتھر پڑا رہے تھے لیکن ان کا دل یہ محسوس کر رہا تھا کہ گویا پھول گر رہے ہیں۔غرض جس وقت انسان کے دل کے اندر حقیقی ایمان پیدا ہو جاتا ہے تو اس کے لئے دنیاوی تکلیفیں ہی نہیں رہتیں اور جب انسان تکلیف میں نہ رہے تو یہی جنت ہے۔دنیا میں ہر انسان نے ایک نہ ایک دن مرنا ہے۔آج نہیں تو کل کل نہیں تو پرسوں، ضرور اسے جان دینی ہے۔آج تک دنیا میں کوئی ہمیشہ نہیں رہا اور نہ آئندہ رہے گا۔لیکن کیا ہی مبارک ہے وہ وجود جو دین کے لئے اپنی جان دیتا ہے کہ ہمیشہ کے لئے اس دنیا میں بھی اس کا نام باقی رہتا ہے اور کہا جاتا ہے فلاں وہ ہے جس نے کسی خاص ذاتی غرض کے لئے نہیں بلکہ اپنے ایمان کی حفاظت میں اپنی جان دیدی۔اور اللہ تعالی کے حضور جو اس کے لئے انعامات ہیں ان کی تو کوئی