خطبات محمود (جلد 13) — Page 49
خطبات محمود ۴۹ سال ۱۹۳۱ء - ہیں۔اور ان دونوں اضلاع میں بہت آسانی سے ایک ہزار نئے احمدی بنائے جاسکتے ہیں۔دو تین سو تو عام طور پر ان اضلاع میں ہوتے ہی رہتے ہیں۔پس اگر ذرا زور اور لگادیں تو یہ جماعتیں مستقل مبلغ لے سکتی ہیں اور پھر یہ سلسلہ وسیع ہوتے ہوتے ہر تحصیل ، تھانہ ، بلکہ ہر ضلع اور ہر قصبہ کے لئے مبلغ مقرر کئے جاسکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہر قصبہ میں ہمارا مبلغ نہ ہو پورے طور پر تبلیغ نہیں ہو سکتی۔مگر یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ جماعتیں بڑھیں۔ایک اور ذریعہ بھی خدا تعالیٰ نے ہمارے حوصلے بلند کرنے کا پیدا کر دیا ہے۔لوگ عام طور پر اس واسطے بھی کم حوصلگی دکھاتے ہیں کہ انہیں معلوم نہیں ہوتا ہماری تعداد کتنی ہے۔اب مردم شماری ہو رہی ہے اور اس کی آخری تاریخ ۲۶ فروری ہے۔اس سے ہمیں ایک حد تک یہ پتہ لگ جائے گا کہ ہماری تعداد کتنی ہے۔ہمیں خود قادیان کی ٹھیک آبادی کا علم نہ تھا۔اب معلوم ہوا ہے کہ قادیان کی آبادی ساڑھے چھ ہزار ہے۔اور یہاں احمدیوں کی تعداد ساڑھے چار ہزار بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان تو پر بھاری ہوتا ہے۔اس لحاظ سے پانچ لاکھ کے لئے قادیان کی احمدی جماعت ہی بھاری ہو سکتی ہے۔لیکن اگر یہ نہیں تو اس کے مقابلہ میں پیٹھ دکھانا تو مومن کے لئے خدا تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔گویا اس لحاظ سے بھی قادیان کی جماعت پچاس ہزار پر بھاری ہونی چاہئے۔کیونکہ جو مومن دس کے مقابلہ میں بھاگتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے حضور جواب دہ اور قابل مواخذہ ہے۔اور یوں تو ایک مسلمان کو شو کا مقابلہ کرنا چاہئے۔اگر قادیان کے ارد گرد ننگل بھینی ، کھارا وغیرہ کی احمدی آبادی کو بھی ملا لیا جائے تو آٹھ نو ہزار کی آبادی ہو جاتی ہے اور ہمارے ضلع کی کل آبادی آٹھ نو لاکھ کی ہے گویا یہی جماعت سارے ضلع کے لئے کافی ہے۔مؤمن ہمیشہ بہادر ہوتا ہے۔قرآن کریم میں خدا تعالی فرماتا ہے اگر تم مارے جاؤ گے تو جنت میں جاؤ گے۔اور اگر جیت جاؤ گے تو حکمران ہو جاؤ گے : پس مومن کو کسی حالت میں بھی ڈرنا نہیں چاہئے۔ہمیشہ بزدل انسان ڈرا کرتا ہے۔مؤمن کے لئے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں۔جب وہ جانتا ہے کہ اگر میں غالب ہو گیا تو حاکم بن جاؤں گا اور اگر مارا گیا تو جنت میں چلا جاؤں گا۔پس مومن کے لئے کوئی فکر کی بات نہیں ہو سکتی۔اگر صرف ضلع گورداسپور کے احمدیوں کی مردم شماری صحیح طور پر ہو جائے تو میرے خیال میں ہیں پچیس ہزار سے زیادہ ہوگی۔مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایک پچھلی مردم شماری میں تمام ہندوستان میں احمدیوں کی تعداد اٹھائیس ہزار بتائی گئی تھی حالانکہ سیالکوٹ اور گورداسپور میں ہی اس سے زیادہ احمدی ہوں گے۔مردم شماری کی رپورٹ کو دیکھ کر