خطبات محمود (جلد 13) — Page 525
خطبات محمود ۵۲۵ سال ۱۹۳۲ء کرتے وقت نہ تو اپنی طرف سے دعوے کرنے چاہئیں کہ ہم یوں کر دیں گے ووں کر دیں گے اور نہ ہی بزدلی دکھانی چاہئے۔ورنہ اسکے نتیجہ میں تکلیف اٹھانی پڑے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک ہندو مجسٹریٹ دوران مقدمہ بہت دکھ دیا کرتا تھا۔اور بعض آریوں نے اسے پڑھایا تھا کہ وہ آپ کو ضرور سزا دے۔ایک شریف ہندو نے ہمارے ایک دوست کو بتایا کہ ہماری قوم میں ایک ایسا سمجھوتا ہوا ہے۔اس کی اطلاع مرزا صاحب کو کر دی جائے۔میں نے خود تو نہیں دیکھا لیکن جس دوست نے دیکھا وہ بیان کرتے ہیں کہ جب خواجہ کمال الدین صاحب یا کسی اور صاحب نے اس بات کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کیا اور بڑی گھبراہٹ کا اظہار کیا تو اس وقت آپ لیٹے ہوئے تھے۔حضور اس بات کو سنتے ہی فورا اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمانے لگے آپ گھبراتے کیوں ہیں کیا خدا کے شیر پر کوئی ہاتھ ڈال سکتا ہے۔اس واقعہ کے جلد ہی بعد ایک مجسٹریٹ تو سزا پا کر بدلا گیا اور دوسرا اس کی جگہ آیا۔اس نے بھی شرارت کرنی چاہی تب اس کے نوجوان بچے مر گئے۔اس کے بعد جب کبھی یہ مجسٹریٹ احمدیوں میں سے کسی سے ملتا تو کہتا کہ مجھ پر تو یونہی شبہ کیا گیا تھا میرا ارادہ تو مرزا صاحب کو تکلیف دینے کا نہ تھا۔ان میں سے ایک مجسٹریٹ حضرت صاحب کو اس قدر تنگ کیا کرتا تھا کہ دوران شہادت میں آپ کو پانی تک پینے کی اجازت نہ دیتا تھا۔غرض وہ دونوں تباہ ہو گئے۔پس چاہئے کہ مؤمن نہ بُزدل بنے اور نہ متکبر۔ان دونوں چیزوں کے درمیان ہی پل صراط ہے جس پر سے ہر ایک مؤمن کو گزرنا پڑتا ہے۔اور جس کے بغیر وہ کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا ہاں دو سروں کو شاید حاصل ہو جائے۔چاہیئے کہ مؤمن میں انکسار ہو تو اتنا کہ اس سے بڑھ کر کوئی منکسرنہ ہو اور جرات ہو تو اس قدر کہ یوں معلوم ہو کہ اس سے زیادہ کوئی دلیر نہیں۔تبھی ایمان بھی کامل ہوتا ہے اور اسی صورت میں بچی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔الفضل ۹ - اگست ۱۹۳۲ء) ل بخارى كتاب التوحيد باب قول الله تعالى وجوه يومئذ ناضرة الى ربها ناظرة سیرت ابن ہشام عربی جلد ۱ صفحه ۱۵۱ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء البقرة : ۲۵۰ مسلم کتاب الایمان باب جواز الاسترار بالايمان للخائف