خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 488

خطبات محمود ۴۸۸ سال ۶۱۹۳۲ دیا کرتا تھا تو قریباً ہر پانچ چھ ماہ بعد یہ کہنے کا دورہ سا ہو تا تھا کہ لڑکوں کو کھیل کے لئے وقت نہیں ملتا۔اور مجھے حیرت ہوتی تھی کہ یہ بھی انسان ہیں جو جماعت احمدیہ سے وابستہ ہیں۔انہوں نے مامور کے ہاتھ پر بیعت کی ہے مگر نہیں جانتے کہ کس چیز پر بیعت کی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مذہبی معلومات سے طالب علم بالکل کو رے ہیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مدرس مذہبی تعلیم کی وہ قدر نہیں کرتے جو کرنی چاہئے۔اس لئے انہیں قرآن کریم کا شوق نہیں احادیث کا شوق نہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا شوق نہیں۔اور چونکہ خود نا واقف ہیں اس لئے وہ دوسروں کے اندر یہ شوق پیدا نہیں کر سکتے۔اگر وہ اصلاح کرلیں اور خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرلیں تو یاد رکھیں خدا تعالٰی سے تعلق پیدا کر کے کوئی انسان ضائع نہیں ہو سکتا۔یہ مت خیال کرو کہ خدا سے تعلق پیدا کرنے سے دنیوی سامان ہاتھ سے جاتے رہیں گے۔میرا تجربہ ہے اور ہر شخص جو اسے آزمائے گا دیکھے گا کہ اسکی مدد وہاں سے ہوتی ہے جہاں کا انسان اندازہ بھی نہیں کر سکتا۔جب وہ یہ خیال کرتا ہے کہ سب ذرائع منقطع ہو چکے ہیں تو خد اتعالیٰ کی مدد ایسے طریق پر آتی ہے جو و ہم سے بالا ہوتا ہے۔میں ان تفصیلات میں پڑنے کا وقت نہیں دیکھتا۔صرف یہی کہتا ہوں کہ ہمارے سلسلہ کے کاموں پر نگاہ ڈالی جائے تو سب میں خدا تعالیٰ کا ہاتھ کام کرتا ہوا دکھائی دے گا۔پس اگر اپنی روحانی آنکھیں کھولو تو تمہیں سب کچھ نظر آئے گا۔اس وقت تو تمہاری مثال ایسی ہے جیسے اندھیرے کا کیڑا اگر روشنی میں آجائے تو اس کی بینائی ماری جاتی ہے۔یا جس طرح چھچھوندر کی بصارت روشنی میں زائل ہو جاتی ہے۔اور ایک بچہ بھی اسے پکڑ سکتا ہے۔لیکن اس کے سوراخ میں سے شیر بھی نہیں پکڑ سکتا کیونکہ وہ اس کا ماحول ہوتا ہے اور ہر چیز اپنے ماحول میں ہی صحیح طور پر کام کر سکتی ہے۔تم نے اگر دین قبول کیا ہے تو دینی ماحول میں ہی ترقی کر سکتے ہو۔اگر دنیوی خیالات کے پیچھے چلو گے تو وہ چونکہ تمہارا ماحول نہیں اس لئے وہی حال ہو گا جو روشنی میں چھچھوندر کا ہوتا ہے۔باہر جا کر تم وہاں کے ماحول میں کامیاب ہو سکتے ہو مگر قادیان میں چونکہ وہ ماحول نہیں اس لئے نہیں ہو سکتے۔اور یہاں وہی مثال ہو گی جیسے ایک شخص کے دو دوست اسے اپنی اپنی طرف کھینچ رہے ہوں اور وہ کسی طرف بھی نہ جاسکے کل ہی ایک دوست نے عربی کے ایک محاورہ کا ذکر کیا۔جو اگرچہ میں نے پہلے بھی پڑھا ہو گا مگر اس وقت کے لحاظ سے اس نے بہت مزا دیا لا ظَهْرَا تَرَكَ لا ذِرَاعًا قَطَعَ یعنی کوئی سواری ایسی نہیں جو چھوڑی ہو مگر سفر کا کوئی گز نہیں جو طے کیا ہو۔تو بعض