خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 380

خطبات محمود ٣٨٠ 45 امید سے ہی ہر قوم ترقی کر سکتی ہے فرموده ۲۶ - فروری ۱۹۳۲ء) سال ۲ تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔دنیا میں مختلف انسان اپنے لئے مختلف تدابیر تجویز کرتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ ان تدابیر کے ذریعہ کامیاب و با مراد ہو جائیں گے یہ تدبیریں اچھی بھی ہوتی ہیں اور بری بھی جائز بھی ہوتی ہیں اور ناجائز بھی بنی نوع انسان کی ہمدردی اور محبت پر بھی مبنی ہوتی ہیں اور ان کی تکلیف تحقیر اور تذلیل پر بھی کوئی شخص دنیا میں ترقی کرنا چاہتا ہے اس طرح کہ وہ ترقی کر جائے خواہ ساری دنیا تباہ اور برباد ہو جائے اور کوئی شخص دنیا میں ترقی کرنا چاہتا ہے اس طرح کہ وہ دنیا میں ترقی کر جائے اور نہ صرف یہ کہ اسے اس امر کی پرواہ نہیں ہوتی کہ باقی دنیا تباہ و برباد ہو بلکہ وہ ترقی کے لئے اس کی بربادی کی کوشش کرتا ہے۔گویا ایک انسان تو ایسا ہوتا ہے جو دوسروں کی بربادی ایسے وقت میں چاہتا ہے جب وہ سمجھتا ہے کہ اب بغیر ان کی بربادی کے میں ترقی نہیں کر سکتا لیکن دو سرا انسان ایسا ہوتا ہے جو خیال کرتا ہے کہ جب تک میں دو سروں کو تباہ نہ کرلوں میں ترقی کر ہی نہیں سکتا۔اس کی ساری کوشش اور اس کی ساری سعی اس بات کے لئے صرف ہو جاتی ہے کہ وہ دوسروں کو تباہ اور برباد کرے گویا وہ یہ خیال کر لیتا ہے کہ دنیا اتنی تنگ واقع ہوئی ہے کہ میں دو سروں کو تباہ کئے بغیر ترقی کرہی نہیں سکتا پھر کچھ اور لوگ ہوتے ہیں جو دنیا کی تباہی و بربادی تو نہیں چاہتے لیکن باقی دنیا کے ساتھ ان کو کوئی وابستگی بھی نہیں ہوتی۔اگر دنیا کی تباہی کے ساتھ ان کی ترقی وابستہ ہو تو ممکن ہے وہ اپنے قدم کو ڈھیلا کر دیں۔ممکن ہے وہ دوسروں کی تباہی کے خیال سے اپنی ترقی کی کوششوں کو کم کر دیں مگر ان میں ایسی خالص ہمدردی نہیں ہوتی کہ وہ