خطبات محمود (جلد 13) — Page 381
خطبات محمود ٣٨١ سال ۱۹۳۲ء دو سروں کو فائدہ پہنچا سکیں پھر کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو علاوہ اپنی ترقی کے دوسروں کی ترقیات کو بھی مد نظر رکھتے ہیں اور جہاں وہ اپنی ترقیات کے لئے کوشش کرتے ہیں اگر انہیں موقع میسر آجائے تو وہ دوسروں کے لئے ترقیات کی کوشش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے پھر کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو نہ صرف خود ترقی کرتے ہیں بلکہ ان کی تمام زندگی اس غرض کے لئے وقف ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کو فائدہ پہنچا ئیں اور وہ عمر بھر اسی کام میں لگے رہتے ہیں پھر کچھ اور لوگ پہنچائیں ہوتے ہیں۔جو ان سے بھی بڑھ کر ہوتے ہیں اور وہ ایسے ہوتے ہیں کہ بسا اوقات اپنا نقصان برداشت کر لیتے ہیں مگر ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ دوسروں کو فائدہ پہنچ جائے۔پھر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی ترقی کو بالکل بھول جاتے ہیں اور ان کی زندگی کی ہر حرکت اور سکون اور ان کا ہر کام دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہوتا ہے ان کے مد نظر اپنی ترقی نہیں ہوتی بلکہ ان کا مقصود صرف یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح بنی نوع انسان ترقی کر جائے۔وہ پہلی جماعت جسکو اپنی ترقی بھی اتنی مد نظر نہیں ہوتی جتنی دو سروں کی تباہی و بربادی ہوتی ہے وہ شیطانوں کی جماعت ہوتی ہے اور وہ آخری جماعت جسے اپنی ذات بالکل بھول جاتی ہے اور جس کے مد نظر محض لوگوں کی فلاح اور بہبود ہوتی ہے انبیاء کی جماعت ہوتی ہے۔ان دونوں کے درمیان ایک وسیع طبقہ ہے مومنوں کا بھی اور کافروں اور منافقوں کا بھی کسی کے اند ر بدی زیادہ ہوتی ہے اور کسی کے اندر نیکی اور یہ تمام اقسام کے لوگ گذشتہ زمانوں سے اس وقت تک چلے آتے ہیں اور انہی مختلف لوگوں کی وجہ سے دنیا کبھی خوبصورت نظر آتی ہے اور کبھی بد صورت جب کبھی دنیا میں شیطانی تحریکوں کا زور ہوتا ہے وہ نہایت بھیانک شکل اختیار کر لیتی ہے اور لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ دنیا ر ہنے کے قابل نہیں ہے اور جب کبھی رحمانی تحریکوں کا زور ہوتا ہے لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ دنیا نہایت اچھی چیز ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ گویا کبھی اس پر تاریکی کا زمانہ نہیں آتا یہ لوگ چونکہ خود اچھے ہوتے ہیں اس لئے انہیں دنیا بھی اچھی نظر آتی ہے اور پہلے لوگ چونکہ خود برے ہوتے ہیں اس لئے انہیں دنیا بھی بری نظر آتی ہے جب اچھوں سے واسطہ پڑتا ہے تو لوگ خیال کرتے ہیں کہ دنیا بڑی اچھی چیز ہے اور جب بروں سے واسطہ پڑتا ہے تو خیال کرتے ہیں کہ دنیا نہایت بری چیز ہے ان تقسیموں کے علاوہ کچھ اور تقسیمیں بھی ہیں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ اچھوں میں رہ کر یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ بروں میں ہیں۔اور بعض بروں میں رہ کر یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اچھوں میں ہیں کیونکہ بعض انسان اپنی فطرت