خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 33

خطبات محمود ٣٣ سال ۱۹۳۱ء رکھنا چاہیئے۔روزہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ یہ بتاتا ہے کہ دیکھو تمہیں اس عارضی فاقہ کشی سے کتنی تکلیف ہوتی ہے اس لئے غور کرو ان لوگوں پر کیا گذرتی ہوگی جنہیں روز ہی فاقہ ہوتا ہے پس ان دنوں میں خصوصیت سے یہ بات یاد دلائی گئی ہے کہ غرباء کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔مگر اب کچھ ایسی رسم ہو گئی ہے کہ روزہ ایسے طور پر رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے قطعا کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام فرمایا کرتے تھے ہمارے ملک میں روزے خوید کا کام دیتے ہیں جس طرح گھوڑے کو خوید دی جاتی ہے جس سے وہ موٹا ہو جاتا ہے اسی طرح رمضان میں لوگ اتنا کھاتے ہیں کہ بجائے کوئی تکلیف محسوس کرنے کے اور موٹے ہو جاتے ہیں۔گھی ، دودھ اور مقوی اغذیہ خوب کھاتے ہیں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ عمدہ اور مقوی چیزیں نہ کھائی جائیں۔صحت کے لئے جتنا ضروری ہو ضرور کھائیں لیکن یہ یاد رہے کہ روزہ روزہ کے لئے ہے۔اگر کوئی شخص صبح و شام اتنا کھالے کہ نفخ ہو جائے اور صحت اور روحانیت کو فائدہ کی بجائے نقصان پہنچ جائے یا غریبوں کی امداد کر سکنے کی بجائے خود مقروض ہو جائے تو ایسا رمضان اس کے لئے کوئی اچھا رمضان نہیں ہو سکتا۔یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی لولا لنگڑا بکرا قربان کر دے۔حالا نکہ ایسا بکرا قربانی میں نہیں کیا جاتا۔پس ان دنوں خیرات زیادہ کرو ، عبادات زیادہ کرو اور جو معذور نہ ہوں وہ روزے رکھیں۔پھر قومی طور پر دیکھا جائے کہ رمضان سے احباب کما حقہ فائدہ اٹھا ر ہے ہیں یا نہیں۔میں نے ایک رمضان میں ایک خطبہ میں کہ دیا تھا کہ طالب علم چونکہ ابھی ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ ان کے جسم کی نشو و نما کا زمانہ ہوتا ہے اور خصوصاً امتحان کے دنوں میں انہیں بہت دماغی محنت کرنا پڑتی ہے اس لئے وہ معذور ہیں۔اس پر مجھے کئی رقعے اور خطوط آئے کہ آپ نے طلباء کے لئے روزے نہ رکھنے کا دروازہ کھول دیا ہے لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے جس دین پر بغیر سوچے سمجھے اندھا دھند عمل کیا جائے وہ دین نہیں بلکہ محض ایک رسم ہے۔قرآن میں صرف بیمار اور مسافر کے لئے روزہ نہ رکھنا جائز قرار دیا ہے۔دودھ پلانے والی عورت اور حاملہ کے لئے کوئی ایسا حکم نہیں۔مگر رسول کریم میں نے انہیں بیمار کی حد میں رکھا ہے اسی طرح وہ بچے بھی بیمار کی حد میں ہیں جن کے اجسام ابھی نشو و نما پا رہے ہیں خصو صادہ جو امتحان کی تیاری میں مصروف ہوں۔ان دنوں ان کے دماغ پر اس قدر بوجھ ہوتا ہے کہ بعض پاگل ہو جاتے ہیں کئی ایک کی صحت خراب ہو جاتی ہے۔پس اس کا کیا فائدہ ہے کہ ایک بار روزہ رکھ لیا اور پھر ہمیشہ کے لئے محروم ہو گئے۔