خطبات محمود (جلد 13) — Page 32
خطبات محمود ۳۲ لوگوں سے پوچھنے کے بعد اذان دے سکتا تھا پھر یہ بھی حکم ہے کہ افطار میں جلدی کی جائے۔اس میں بھی بعض لوگ سختی سے کام لیتے ہیں۔سورج جب ہماری نظروں سے غائب ہو تا ہے اس سے آٹھ منٹ قبل ڈوب چکا ہوتا ہے کیونکہ اس کی روشنی ہم تک آٹھ منٹ میں پہنچتی ہے۔مگر شریعت نے چونکہ ظاہر پر احکام کی بنیاد رکھی ہے اس لئے نظر سے غائب ہونے کے بعد افطاری کا حکم دیا اور اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ نظروں سے غائب ہونے سے آٹھ منٹ قبل وہ ڈوب چکا ہوتا ہے۔غروب ہونے کے بعد مزید احتیاط کی ضرورت نہیں رہتی۔رسول کریم میں پر نے انکار میں دیر کرنا قومی تباہی کے آثار میں سے بیان فرمایا ہے اس لئے دیر نہ کرنی چاہئے۔دیر کرنا وہم اور بیماری ہے نیکی نہیں۔انسان اگر مسافر یا بیمار ہو تو روزہ نہ رکھے۔آج تک اس امر پر بخشیں ہوتی رہی ہیں کہ سفر کسے کہتے ہیں۔لوگوں نے سفر کا اندازہ لگانے میں غلطیاں کی ہیں۔سفر خود ہی ظاہر ہوتا ہے۔پھر بیماری کے بارہ میں غلطی لگ سکتی ہے۔بعض دفعہ انسان زیادہ بیمار نظر آتا ہے مگر خدا تعالی کا ایسا فضل ہوتا ہے۔کہ موقع پر اسے توفیق مل جاتی ہے۔گذشتہ رمضان سے پہلے مجھے اس قدر ضعف تھا کہ میں سمجھتا تھا شاید روزے نہ رکھ سکوں۔لیکن جب روزے رکھنے شروع کئے تو کوئی تکلیف نہ ہوئی بلکہ بدن میں طاقت آگئی۔لیکن اب کے کھانسی قریباً اچھی ہو چکی تھی اور اس خیال سے کہ اب نہیں ہوگی میں نے پہلا روزہ بھی رکھ لیا مگر اس سے کھانسی بہت بڑھ گئی ہے۔اور بعض اوقات بہت زیادہ تکلیف ہو جاتی ہے۔حالانکہ میرا خیال تھا کہ اس سال صحت ایسی ہے کہ میں روزے رکھ سکوں گا لیکن رکھنے سے سخت تکلیف ہوئی۔اس طرح تندرستی کے خیال کے ماتحت بیمار کا روزہ رکھنا معذوری میں داخل ہے لیکن جو سمجھتا ہو کہ میں بیمار ہوں اور پھر روزہ رکھے وہ گناہ کرتا ہے اور خود کشی کا مرتکب ہوتا ہے اسی طرح مسافر کو بھی روزہ نہیں رکھنا چاہئے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عصر کے وقت جب افطاری میں بہت تھوڑا وقت باقی تھا مسافروں کے روزے افطار کرا دیئے تھے۔ہاں نفلی روزہ مسافر بھی رکھ سکتا ہے اور رمضان کا روزہ بھی اگر مسافر رکھے تو یہ اس کا نفلی روزہ سمجھا جائے گا مگریہ حرکت پسندیدہ نہیں۔خدا تعالٰی نے جو رخصت دی ہے اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے پھر اس مہینہ میں صدقہ و خیرات زیادہ کرنی چاہئے جو لوگ بوجہ معذوری روزہ نہ رکھ سکیں انہیں چاہئے کہ جو کھانا وہ گھر میں کھاتے ہوں ویسا ہی ایک آدمی کو کھلا دیں اور اگر استطاعت ہو تو خواہ خود روزہ رکھیں تو بھی محتاج کو کھانا کھلانا چاہئے۔ان دنوں میں اپنے غریب بھائیوں کی امداد کا خاص خیال