خطبات محمود (جلد 13) — Page 343
خطبات محمود ۳۳ 41 سال ۱۹۳۲ء حق دار کو اس کا حق فورا ادا کر دو (فرموده ۲۹- جنوری ۱۹۳۲ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔میں نے اپنے ایک پچھلے خطبہ جمعہ میں دوستوں کو نصیحت کی تھی کہ وہ اس سال کے پروگرام میں علاوہ تبلیغ احمدیت کے خصوصیت سے اس امر کو بھی شامل کرلیں کہ وہ موجودہ سال کو اپنی تمام لڑائیوں اور جھگڑوں اور فتنہ اور فسادات کو دور کرنے کی کوششوں میں صرف کر دیں اور جہاں تک ان سے ہو سکے خواہ وہ مظلوم ہی کیوں نہ ہوں اور خواہ ان پر دوسروں کی طرف سے ظلم ہی کیوں نہ کیا گیا ہو ، آپس میں صلح اور صفائی کر لیں۔مجھے خوشی ہے کہ جماعت کے دوستوں نے میری اس نصیحت پر نہایت کثرت سے عمل کیا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ جن لوگوں کے دل ابھی تک دوسروں کی طرف سے صاف نہیں ہوئے وہ اس موقع کو غنیمت سمجھتے اور اس سے پوری طرح فائدہ اٹھاتے ہوئے آئندہ کے لئے اپنی اصلاح کریں گے اور جلد سے جلد اپنے قلوب کو دوسروں کی نسبت صاف کر کے اللہ تعالی کے فضلوں کے وارث بن جائیں گے۔لیکن جہاں میں نے یہ نصیحت کی تھی کہ لوگ اپنے دلوں کو دوسروں کی نسبت صاف کرلیں اور خواہ وہ مظلوم ہی کیوں نہ ہوں صلح کریں میری یہ نصیحت نا مکمل ہوگی اور فتنوں کا سد باب پوری طرح نہیں ہو گا جب تک میں اس کا دوسرا حصہ بھی بیان نہ کروں اور وہ یہ ہے کہ نہ صرف دوسروں کے متعلق ہر قسم کی کدورت سے اپنے دلوں کو صاف کرو بلکہ اس امر کو بھی مد نظر رکھو کہ کسی مظلوم کا معافی مانگ لینا ایسی بات نہیں جو تمہارے لئے خوشی کا موجب ہو سکے بلکہ خوشی صرف اس کے لئے ہے جس نے معافی مانگی اور تمہیں خوشی اس