خطبات محمود (جلد 13) — Page 340
خطبات محمود ۳۴۰ سال ۱۹۳۲ء نہیں کہ بعض نعمتیں ایمان سے مخصوص ہیں مگر اکثر غیر مخصوص ہیں اور اس کی رحمت کا فرمومن سب کو ڈھانپ لیتی ہے۔کوئی حکومت ایسا آرڈی نینس جاری نہیں کر سکتی کہ دعا نہ کرو اور کوئی حکومت خدا کے فضل کو روک نہیں سکتی۔حکومت اس سے تو روک سکتی ہے کہ مظلوموں کی حمایت میں مضمون نہ لکھے جائیں ، جلسے نہ کئے جائیں ، جتھے نہ لے جائے جائیں ، تقریریں نہ کی جائیں ، چندے نہ جمع کئے جائیں لیکن تمہاری دعاؤں کو کوئی نہیں روک سکتا اس کے لئے تو زبان بھی ہلانے کی ضرورت نہیں۔ایک دُکھیا دل جب خدا تعالیٰ کے سامنے جھک جاتا ہے تو اس کی دعا ختم ہو جاتی ہے۔اور جب خدا تعالیٰ کسی کام کو کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے تو کوئی طاقت کچھ نہیں کر سکتی۔انگریزی حکومت کے پاس سامان جنگ افواج اسلحہ سب کچھ ہیں لیکن مالی مشکلات میں اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا پکڑا ہے کہ سب حیران ہیں۔چند دنوں میں ہی پونڈ کی قیمت ایسی گری ہے کہ چار پانچ ماہ کے عرصہ میں دنیا کی بہترین مالدار قوم کی حالت دیوالیوں کی سی ہو گئی ہے۔یہ ایک نشان ہے تمہارے لئے اور ہر اس شخص کے لئے جو دنیوی سامانوں پر تکیہ کرتا ہے۔دراصل کمزور وہی ہے جسے خدا کمزور کرے۔اور طاقتور وہی ہے جسے خدا تعالی طاقتور بنائے۔پس مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔دعاؤں کے ذریعہ بھی مدد کرو اور مالی و تبلیغی طور پر بھی۔ہر دل جس میں کشمیر کے مظلوموں کے لئے تم درد پیدا کرتے ہو وہ بھی خدمت ہے۔اس لئے باہر کی جماعتوں کو اس کی طرف متوجہ کرتا ہوں کیونکہ اس مسئلہ کی طرف ابھی انکی توجہ اتنی نہیں جتنی کہ چاہئے۔اس لئے ہر وہ جماعت اور شخص جس تک میری آواز پہنچے رمضان کے دنوں میں خصوصیت کے ساتھ اور بعد میں بھی اس طرف توجہ کرے۔ہر گاؤں میں چندہ جمع کیا جائے اور نہیں تو ہر روز مٹھی بھر آتا ہی اس کام کے لئے علیحدہ کر دیا جائے۔ہندوستان میں قریباً ساٹھ ہزار قصبے ہیں اور اگر ان میں سے صرف میں ہزار قصبوں میں مسلمان رہتے ہیں اور یہ بیس ہزار قصبے صرف ایک آنہ ماہوار کی رقم جمع کریں۔تو بھی ہر مہینہ میں سوا ہزار روپیہ جمع ہو سکتا ہے۔یہ خیال مت کرو کہ لوگ توجہ نہیں کرتے۔یہ تمہارا کام ہے کہ جاؤ اور جا کر انہیں متوجہ کرو۔کشمیر کے مسلمان احمدی نہیں ہیں کہ کوئی ہم پر اعتراض کر سکے۔یہ غلام قوم کی آزادی کا سوال ہے اس کے لئے کسی سے مانگنے اور تحریک کرنے میں کوئی شرم نہیں۔ایک دو تین ، چار دن بلکہ اس وقت تک جاؤ جب تک کہ خدا تعالیٰ ان غلاموں کو آزاد کرا دے۔ویسے غلام تو اس زمانہ میں نہیں ہیں جو پہلے ہوا کرتے تھے۔ان کو تو یورپ نے آزاد کرا دیا۔اب یہی غلام باقی ہیں جو