خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 341

خطبات محمود اسم ۳ سال ۱۹۳۲ء نام کے طور پر آزاد ہیں لیکن عملاً غلام ہیں۔ان کو آزادی دلانے کے لئے ہمیں ثواب کا ایک موقع حاصل ہے۔پس جہاں جہاں بھی کوئی احمد کی ہے خواہ جماعت کی صورت میں خواہ اکیلا - میں پھر اسے متوجہ کرتا ہوں کہ وہ اس عظیم الشان کام سے غفلت نہ کرے۔یہ ثواب حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔اور جو اس وقت غفلت کرتا ہے وہ اپنی عمر کا بہترین موقع ضائع کرتا ہے۔ان کے لئے چندہ جمع کرو۔ان کے متعلق لوگوں کے اندر ہمدردری پیدا کرو یہاں تک کہ بچہ بچہ انکی مظلومیت سے آگاہ ہو جائے۔اور ہر دل میں ان کے لئے ہمدردری پیدا ہو جائے۔بڑے بڑے شہر مثلاً بمبئی ، کلکتہ، دہلی وغیرہ کے مالدار لوگ اگر اپنی زکو تیں ہی دیں تو بھی بہت کام ہو سکتا ہے۔تم گھر بیٹھے ہی یہ خیال مت کرو کہ لوگ توجہ نہیں کرتے۔جب تک کوئی شخص ہر گھر اور دکان پر نہیں جاتا اور گھر بیٹھے ہی خیال کر لیتا ہے کہ لوگ توجہ نہیں کرتے وہ نادان ہے۔اور خود اپنے نفس کو بھی دھوکا دیتا ہے اور خدا کو بھی دھوکا دینے کی کوشش کرتا ہے۔بڑے شہروں کے احمدیوں کو چاہئے کہ وفد بنا کر ہر دکان پر جائیں اللہ تعالیٰ یقینا برکت دے گا۔پس رمضان کے دنوں میں جب رسول کریم ملی تیز ہوا سے بڑھ کر صدقہ کرتے تھے احباب جماعت کو چاہئے کہ اس کام میں توجہ کریں تا اللہ تعالیٰ ان کو اس کے ثواب میں حصہ دار بنائے۔کیونکہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ اس کام کو کرنا چاہتا ہے۔اور ہمارے لئے مفت میں اجر حاصل کرنے کا موقع ہے۔یہ مت خیال کرد که احرار کی فتنہ انگیزیاں ہمارے خلاف تعصب پیدا کر رہی ہیں۔کیونکہ اکثر لوگ دنیا میں عقل سے کام لیتے اور اپنے نفع و نقصان کو سمجھتے ہیں۔خود کشمیر میں بہت زیادہ تعصب تھا، مگر اس کام میں نوے فیصدی لوگ ہیں جو کسی قسم کے تعصب کا اظہار نہیں کرتے کیونکہ وہ اپنے نفع کو خوب سمجھتے ہیں۔اس لئے یہ خیال مت کرو کہ تعصب ہے بلکہ جن کے دلوں میں تعصب ہے ان کو بھی تم اپنا ہم خیال بنا سکتے ہو۔اور حقیقت تو یہ ہے کہ اکثر لوگ ایسے ہیں جن میں تعصب نہیں ، صرف سستی ہے۔کیو کہ عام انسان چاہتے ہیں قربانی سے بچ جائیں۔اس لئے ممکن ہے کہ بعض تمہاری احمدیت کو بہانہ بنا کر قربانی سے بچنا چاہیں۔لیکن اگر انہیں بار بار سمجھایا جائے تو وہ بھی مان جائیں گے۔اللہ تعالٰی ہمیں تمام نیک کاموں میں حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے۔اور اپنی رضاء کے حصول کے مواقع بہم پہنچائے۔اس مظلوم ملک کی بھی امداد کرے اور ہمیں بھی توفیق دے کہ ان کی غلامی کو آزادی سے تبدیل کرنے کے لئے کوشش کریں اور اس طرح غلاموں کو آزاد کرانے کی نیکی