خطبات محمود (جلد 13) — Page 332
خطبات محمود ۳۳۲ سال ۱۹۳۲ء سے نہیں رکے بلکہ ایسی مجبوریوں کی وجہ سے پیچھے رہے ہیں جو ان کے قبضہ سے باہر تھیں۔اور تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچتی جو ان کو نہ پہنچے۔تم کسی وادی میں نہیں چل رہے ہوتے مگر وہ ساتھ ہوتے ہیں۔پس وہ انسان جو کسی جائز مجبوری کی وجہ سے کسی عبادت میں شریک نہیں ہو سکتا اور اس کے لئے دل میں کڑھتا ہے ویسا ہی ثواب کا مستحق ہوتا ہے جیسادہ انسان جو عبادت بجالا رہا ہوتا ہے۔ایسے لوگوں کو بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ جو شرعی مجبوری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا مگر اس پر افسوس کرتا ہے وہ بھی ثواب کا مستحق ہے۔ا بخاری کتاب الجهاد والسير باب من حبسه العذر عن الغزو الفضل ۲۱ جنوری ۱۹۳۲ء)