خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 333

خطبات محمود سم سال ۱۹۳۲ء 40 مسلمانان کشمیر کی مال اور دعا سے مدد کرو (فرموده ۲۲- جنوری ۱۹۳۲ء)۔تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔رسول کریم میں اور ملک کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ آپ نہایت ہی مخیر وجود تھے اور صدقہ و خیرات کی طرف بہت توجہ کیا کرتے تھے۔خصوصاً رمضان کے ایام میں آپ صدقہ و خیرات میں بہت ہی زیادہ حصہ لیا کرتے تھے۔حتی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا بیان ہے کہ رمضان میں آپ کا صدقہ و خیرات اپنی تیزی میں تیز ہوا سے بھی بڑھ جاتا تھا۔اگر اللہ تعالیٰ کا وہ رسول جو دنیا کے لئے اسوہ و نمونہ بنا کر بھیجا گیا تھا جو خدا تعالیٰ کے حضور اپنی پیدائش سے قبل ہی مقبول تھا بلکہ دنیا کی پیدائش کا مقصود تھا اس بات کا محتاج تھا کہ اللہ تعالیٰ کی رضاء کے حصول کے لئے آگے بڑھ کر قدم مارے تو ہم لوگ جو ہزا رہا عیوب اور نقائص رکھتے ہیں کس حد تک اس بات کے محتاج ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضاء حاصل کرنے کے لئے قربانی کے مواقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں اس امر کا ہم میں سے ہر ایک کو اندازہ کرنا چاہئے۔اسلام نے اس بات کا حکم نہیں دیا کہ کوئی انسان دولت کمائے نہیں یا اچھا کھانا نہ کھائے یا عمدہ کپڑا نہ پہنے لیکن اس بات کا دروازہ ضرور کھول دیا ہے کہ اگر کوئی انسان خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا چاہے تو وہ قربانیوں کے ذریعہ ہی حاصل کر سکتا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ انسان نوافل کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے۔یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ رسول کریم میں اللہ فرماتے ہیں خدا تعالیٰ نے فرمایا میں ایسے بندہ کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے، اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے، میں