خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 328

خطبات محمود ٣٣٨ سال ۱۹۳۲ء ذاتیات کی وجہ سے جھگڑے ہیں جو اس لئے جھگڑے ہیں کہ فلاں عزت مجھے کیوں حاصل نہیں ہوئی یا فلاں مال مجھے کیوں نہیں ملایا فلاں درجہ کیوں نہیں حاصل ہو ایا مجھے امام الصلواۃ کیوں نہیں بنایا گیا یا لین دین کے معاملات کی وجہ سے جھگڑے ہیں یہ سب دنیوی ہیں اور ان میں سے کوئی بھی دینی جھگڑا نہیں۔امامت کو میں نے اس لئے شامل کر لیا ہے کہ بہت سے لوگ اسلئے تفرقہ پیدا کر دیتے اور دوسروں سے بولنا چھوڑ دیتے ہیں کہ فلاں کو کیوں امام بنایا گیا ، مجھے کیوں نہیں بنایا۔یہ سب نفس کے دھو کے اور محض ذاتیات کی وجہ سے جھگڑے ہیں۔خدا کے لئے وہی لڑائیاں ہوتی ہیں جو دین کے لئے ہوتی ہیں اور ایسے شخص کے متعلق جو دینی لحاظ سے ہمارا دشمن ہے ہمیں یہی حکم ہے کہ اس سے اجتناب کریں۔مگر ان دینی لڑائیوں کو چھوڑ کر باقی تمام لڑائیوں اور جھگڑوں کو دور کر دو اور کوشش کرو کہ اگلا جمعہ نہ آئے مگر ایسی حالت میں کہ تمہاری ان بھائیوں سے جن سے تم نہیں بولتے جن سے تم عناد رکھتے ہو اور جن سے لڑائیاں اور جھگڑے ہیں صلح ہو۔اور بجائے بغض کے محبت اور بجائے جھگڑے کے آپس میں الفت اور پیار ہو۔رسول کریم نے فرمایا ہے کہ جمعہ کے روز ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی دعائیں زیادہ قبول کرتا ہے۔پس ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ جب اگلے جمعہ میں ہم پر وہ گھڑی آئے جو دعا کی قبولیت کا وقت ہوتا ہے تو ہم میں سے ہر شخص کا دل دو سرے کے بغض سے خالی ہو اور ہم خدا کے کلام اور اسکے رسول کی نعمت سے کامل طور پر مستفیض ہو کر فا صبَحْتُم بنِعْمَتِه اِخْوَانًا کے بچے مصداق ہوں۔میں امید کرتا ہوں کہ میری اس نصیحت پر جو گو مختصر الفاظ میں ہے مگر نہایت ہی اہم ہے دوست توجہ کریں گے۔میرا گلا چونکہ خراب ہے اس لئے میں زیادہ تقریر نہیں کر سکتا۔بعض دفعہ تو معمولی باتیں کرنے کی وجہ سے بھی گلے میں درد ہو جاتا ہے۔جلسہ سالانہ میں تقریریں کرنے کی وجہ سے گلے میں تکلیف ہو گئی اور یہ تکلیف اس قدر زیادہ ہو گئی کہ ایک دن گلے سے آواز ہی نہیں نکلتی تھی اور بعض دفعہ میں آہستہ بھی نہیں بول سکتا تھا۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے گو پہلے کی نسبت بہت سا افاقہ ہے مگر چونکہ تکلیف باقی ہے اس لئے میں زیادہ بول نہیں سکتا۔مگر میں دوستوں کو اس قدر اور کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اب رمضان شروع ہونے والا ہے جو اپنے ساتھ بہت بڑی برکات لاتا ہے۔ان برکات سے کامل طور پر فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ اپنی رنجشوں کو دور کر دو۔رسول کریم یا اللہ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جو خدا کے لئے آپس میں