خطبات محمود (جلد 13) — Page 329
خطبات محمود ۳۲۹ سال ۱۹۳۲ء دوستیاں کرتے ہیں وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سایہ کے نیچے ہوں گے اور ہم ہر گز یہ تسلیم نہیں کر سکتے کہ جو شخص قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سایہ کے نیچے ہو گا وہ اس دنیا میں اس کی رحمت کے سایہ تلے نہ ہو۔پس اپنے بھائیوں سے جلد تر صلح کر لو تا اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سایہ تلے جگہ پاؤ۔اور یاد رکھو رحمت ایسی چیز نہیں جس کی میں ضرورت نہ ہو بلکہ مؤمن کو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی رحمت کی ضرورت ہوتی ہے۔حضور جب دو سرا خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمایا :- میں نے جو خطبہ پڑھا ہے اس میں میں پھر ان لوگوں کو مخاطب کر کے جو اپنے آپ کو نمبردار سمجھتے ہیں کہتا ہوں کہ ان میں سے کوئی شخص یہ خیال نہ کرے کہ میں مظلوم ہوں اس لئے دوسرے سے کیوں صلح کروں اس لئے کہ مظلوم کو صلح کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے کیونکہ جو شخص صلح میں ابتداء کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا وارث بنتا ہے۔پس اگر اس موقع پر بھی ظالم نے ہی ابتداء کی تو اسے دونوں لحاظ سے فائدہ رہا۔اس نے یہاں مار پیٹ بھی لیا اور اگلے جہاں میں بھی ثواب کا وارث بن گیا۔پس وہ لوگ جو اپنے آپ کو نمبردار سمجھتے ہوں انہیں بھی سمجھ لینا چاہئے کہ خواہ وہ اپنے آپ کو مظلوم سمجھتے ہوں تب بھی ان کو پہلے صلح کرنی چاہئے۔تا ایسا نہ ہو کہ اس جہان میں بھی مظلوم رہیں اور اگلے جہان میں بھی ثواب حاصل نہ کر سکیں۔ضروری ہے کہ خواہ کوئی مظلوم ہو تو بھی اپنے بھائی کی طرف صلح کے لئے بڑھے اور اپنی باہمی رنجشوں کو دور کردے۔الفضل ۱۴ جنوری ۱۹۳۲ء) ا ترمذی ابواب النكاح باب ما جاء في استيمار البكر والثيب ال عمران: ۱۰۴ کے مسلم کتاب الجمعة باب في الساعة التي في يوم الجمعة ه۔بخاری کتاب الايمان باب قول النبي صلى الله عليه وسلم بنى الاسلام على خمس