خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 23

خطبات محمود ۲۳ سال ۱۹۳۱ نو ایسے لوگ اپنی پستی کا تمام الزام پر دہ پر لگاتے ہیں حالانکہ جو پردہ ترک کر رہے ہیں وہ دل سے بھی دوسروں کے غلام بنتے جارہے ہیں یعنی ذہنی اور روحانی غلامی اختیار کر رہے ہیں اور ہم جو پردہ ضروری سمجھتے ہیں اس سے آزاد ہیں کیونکہ ہم اس تہذیب کے سخت مخالف ہیں جسے وہ اپنی ترقی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور ظاہری غلامی ہمارے نزدیک کوئی چیز نہیں۔ظاہری حکومت آخر کسی نے تو کرنی ہے اگر ہندوستانیوں کی اپنی حکومت ہو تو بھی کیا سارے ہی حکمران ہو نگے ایک حصہ ہی حکومت کریگا پس ظاہری غلامی کوئی چیز نہیں غلامی در اصل دماغی خطرناک ہوتی ہے۔پس پردہ چھوڑنے والے پورے طور پر یورپ کے غلام بنتے جارہے ہیں لیکن پردہ جس کے متعلق کہتے ہیں کہ اس نے انہیں زوال تک پہنچایا اسے مسلمانوں نے اختیار کرنے کے باوجود تمام دنیا کو فتح کر لیا تھا۔رسول کریم میں امی کی بیویاں پردہ کرتی تھیں مگر جنگوں میں بھی شامل ہوتی تھیں جنگ صفین میں حضرت عائشہ خود کمان کرتی رہیں بڑے بڑے جرنیل بھی اس وقت پیچھے ہٹ گئے مگر وہ برابر میدان میں موجود رہیں پس اپنا نقص کسی اور طرف منسوب کرنا حماقت ہے۔یہاں قادیان میں ہی پر دہ ہے مگر یہاں کی عورتیں دوسری اقوام کی عورتوں کی نسبت زیادہ پڑھی ہوئی ہیں۔میں نے ایک دفعہ معلوم کرایا تو پتہ لگا کہ ان پڑھ لڑکیاں بہت کم ہیں مگر ان پڑھ لڑکے بہت زیادہ ہیں مگر یہاں پر وہ با قاعدہ ہے پھر کئی ایک لڑکیاں مولوی کا امتحان دے چکی ہیں کئی نے انٹرنس کا امتحان پاس کر لیا اور اب کئی ایف اے کی تیاری کر رہی ہیں اس کے مقابلہ میں ان میں جو پردہ کی مخالف ہیں ابھی تک وہی جہالت اور تاریکی پھیلی ہوئی ہے بیشک ان کے پاس سامان زیادہ ہیں اور اگر وہ کوشش کریں تو ہم سے بڑھ جائینگی لیکن ان کی ترقی مال و دولت کیوجہ سے ہوگی نہ کہ پردہ چھوڑنے کے باعث پھر یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ پردہ چھوڑنے والوں کو حکومت کی امداد بھی حاصل ہے پچھلے گورنر صاحب کی بیوی پردہ کی سخت مخالف تھیں حتی کہ انہوں نے پر دہ کلب میں جاتا ترک کر دیا تھا کیونکہ وہ اسے بہتک سمجھتی تھیں۔اور بہت سے مسلمانوں کی بیویوں نے محض اسوجہ سے پردہ ترک کر دیا کہ لاٹ صاحب کی بیوی کی ملاقات سے محروم نہ رہ جائیں۔ہماری جماعت کے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیئے ہمارا کام صرف ؛ فات مسیح ہی منوانا نہیں بے شک یہ بھی بہت ضروری ہے مگر یہ روئیں جو چل رہی ہیں دہریت ں اور اسلامی احکام سے روگردانی کی اور یہ کہ اسلام نے عورتوں کو حقوق نہیں دیتے ان کا مقابلہ کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔اور اس کا بہترین طریق یہ ہے کہ ہم عورتوں کی تعلیم کا پورا انتظام کریں۔اگر ان عورتوں سے جو اسلامی احکام کی خلاف