خطبات محمود (جلد 13) — Page 24
۲۴ سال ۱۹۳۱ء ورزی کرنے پر تلی ہوئی ہیں ہم خود کہیں گے کہ یہ طریق تمہارے لئے مفید نہیں بلکہ نقصان رسان ہو گا۔تو سابقہ اثرات کے ماتحت وہ ہماری بات نہیں سنیں گی اور کہہ دیں گی تم ظالم مرد ہو تم نے عورتوں کے حقوق غصب کر رکھے ہیں۔لیکن اگر عورتیں جاکر انہیں کہیں گی کہ ہم علی وجہ البصيرة اور تجربہ کی بناء پر کہتی ہیں کہ اسلام کی تعلیم اعلیٰ اور فائدہ بخش ہے تو اس کا ان پر اثر ہو گا۔عورتوں کے متعلق جو رو چلی ہے اس کا اگر مرد مقابلہ کریں گے تو اس کامیابی سے نہیں کر سکیں گے جس طرح صرف عورتیں کر سکتی ہیں۔اگر عورتیں کہیں ہم اسلامی احکام کی پابندی کرتی ہوئی تمام حقوق سے فائدہ اٹھارہی ہیں تو ان کو خیال ہو گا کہ اگر یہ اٹھارہی ہیں تو ہم کیوں نہیں اٹھا سکتیں۔اسی وجہ سے میں نے مجلس شوری میں عورتوں کے حق رائے دہندگی کے متعلق سوال اٹھایا تھا۔میں نے ۱۹۲۴ ء میں ولایت سے ایک چٹھی لکھی تھی جس میں بتایا تھا کہ اب ہندوستان میں پردہ کے خلاف کو چلے گی میرے اس وقت کے جو مضامین الفضل میں چھپے تھے ان میں یہ چٹھی بھی تھی۔اب گزشتہ دو سال سے پردہ کے خلاف جو تحریک شروع ہو گئی ہے میں نے کئی سال قبل اس کے متعلق خبر دی تھی اور مجلس شوری میں اسی وجہ سے حقوق رائے دہندگی کا سوال اٹھایا تھا کہ جس حد تک شریعت عورتوں کو حق دیتی ہے ہمارا فرض ہے کہ دیں تا انہیں اسلامی تعلیم سے ہمدردی پیدا ہو اور جب تک ان کے اندر یہ جذبہ پیدا نہ ہو وہ عورتوں کو اسلامی احکام پر چلنے کی دعوت نہیں دے سکتیں اور عورتوں میں تبلیغ نہیں کر سکتیں۔تم میں سے کوئی یہ نہیں کہتا کہ مدرسه احمدیه یا جامعہ احمدیہ اُڑا دیا جائے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ جب تک مبلغ نہ ہوں تبلیغ نہیں ہو سکتی۔یہی وجہ ہے مجلس شوری کے موقع پر زور دیا جاتا ہے کہ مبلغین کی تعداد زیادہ کی جائے۔پھر یہ کس طرح خیال کیا جا سکتا ہے کہ عورتوں میں اسلامی احکام کے خلاف جو رو چل رہی ہے جب تک عورتیں تبلیغ کا کام نہ کریں اسے روکا جا سکتا ہے لیکن جو عورت خود اپنے کو مظلومہ سمجھے وہ دوسری کو کیا تبلیغ کر سکے گی۔پس دونوں چیزیں ضروری ہیں عورتوں کو تعلیم بھی دی جائے اور ان کے حقوق بھی جو اسلام نے انہیں دیئے ہیں ہمیں چاہئے خود ہی دے دیں تا ان کے اندر جوش پیدا ہو اور وہ اسلام کی جنگ اپنی جنگ سمجھ کر لڑیں۔عورتوں کے جلسوں میں مرد تو تقریریں نہیں کر سکتے عورتیں ہی کر سکتی ہیں اور عورتوں کے جلسوں میں جو کچھ بیان کیا جاتا ہے اس کے نوٹ بھی عورتیں ہی لے سکتی ہیں اس لئے عورتوں کو ہی اس کام کے لئے تیار کرنا چاہئے۔اور انہیں جو حقوق اسلام نے دیئے ہیں دے دینے چاہئیں۔