خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 270

خطبات ۲۷۰ سال ۱۹۳۱ ء بھی انسان دنیا میں ایسا نہیں جو نہ کرتا ہو فرق صرف اچھی یا بری جگہ کا۔۔پس جب دنیا میں ہر ایک شخص قربانی کر رہا ہے اور قرآن کریم بھی یہی فرماتا ہے وَلِكُلِّ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلَّيْهَا یعنی ہر ایک انسان کے سامنے ایک مقصد ہوتا ہے اس کی طرف اپنی تمام توجہ کر کے وہ باقی سب سے منہ پھیر لیتا ہے اور باقی کو قربان کر دیتا ہے تو ثابت ہو گیا کہ دنیا میں ہر انسان کسی نہ کسی چیز کے لئے قربانی کرتا ہے کیونکہ اگر ایسے لوگ بھی دنیا میں ہوں جو ایسا نہ کرتے ہوں تو یہ آیت صحیح نہ ہوگی اور قرآن کی تکذیب لازم آئے گی۔پس دنیا میں ہر ایک انسان قربانی کرتا ہے۔اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص قربانی نہیں کرتا تو اس کے معنے صرف یہ ہوتے ہیں کہ اچھی چیز کے لئے نہیں کرتا اور خدا تعالیٰ کے دین یا اس کے بندوں کی بہبودی کے لئے نہیں کرتا۔پس جب ہر ایک انسان قربانی کرتا ہے تو فرق صرف یہ ہوا کہ مومن خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کرتا ہے اور غیر مومن دوسری چیزوں کے لئے اور یہ فرق کوئی ایسی چیز نہیں کہ اسے کوئی خاص اہمیت دی جاسکے کیونکہ مومن سے صرف یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ جب اس نے قربانی کرنی ہی ہے تو کسی دوسری چیز کے لئے کرنے کے بجائے خدا تعالیٰ کے لئے کرے تاجہاں دوسروں کی قربانیاں ضائع ہوں وہاں اس کی قربانی اس کے لئے فائدہ کا موجب ہو۔جب ایک شخص کو مجبور کیا جائے کہ اس نے ایک من دانے ضرور باہر پھینکتے ہیں خواہ وہ پتھر پر پھینک دے اور خواہ ہل چلی ہوئی زمین میں تو پھر عقلمند وہی ہے جو پتھر پر پھینک کر دانہ ضائع نہ کرے بلکہ ہل چلی ہوئی زمین میں پھینکے جہاں وہ پھر پھل لا سکے۔بعض نادان کہتے ہیں کہ ہم سے خاص قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے حالانکہ خدا تعالیٰ کسی کی قربانی کا محتاج نہیں اس کا منشاء صرف یہ ہے کہ تم جو لغو قربانی کرتے ہو اسے اپنے فائدہ کے لئے کرو۔جس شخص سے دین کے لئے قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے فرض کرو وہ نہ کرے تو پھر کیا کرے گا؟ وہ روپیہ جمع کر کے اپنے نفس پر اپنے بیوی بچوں کے آرام و آسائش پر خرچ کرے گا۔گویا روپیہ بہر حال اس کا خرچ ہو جائے گا۔اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ یہ تو نہیں کہتا کہ تم فاقے کرو لیکن اگر روزانہ مرغ یا پلاؤ نہ پکائے جائیں تو کیا حرج ہے اور اس سے فائدہ بھی کیا ہے۔انسانی جسم میں ترقی ایک حد تک ہی ہو سکتی ہے اس سے زیادہ کسی صورت میں نہیں ہو سکتی اور ایسے خرچ کا کوئی فائدہ بھی نہیں۔اس کے مقابلہ میں اگر اپنے چسکہ میں کمی کر دی جائے اور وہی روپیہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا جائے تو وہ آئندہ بھی اس کے لئے ثمرات کا موجب ہو گا۔غرض ہم کسی سے قربانی کا مطالبہ نہیں کرتے کیونکہ قربانی تو ہر حال میں انسان کو کرنی ہی پڑتی ہے