خطبات محمود (جلد 13) — Page 20
خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء انتہائی کوشش کے باوجود بھی غفلت کے وقت میں یہ اندر چلے جاتے ہیں۔اگر تو انسان کا تمام وقت ہوشیاری ہی میں گذرے۔تو بے شک وہ اپنی حفاظت کر سکتا ہے۔لیکن اگر حقیقت یہ ہے کہ بعض اوقات اس پر غفلت کے بھی آتے ہیں اس لئے لازمی ہے کہ غفلت کے وقت میں اس کی حفاظت کرنے والا کوئی اور ہو۔پس محفوظ رہنے کا طریق یہی ہے کہ ہوشیاری کی حالت میں تو انسان خود اپنی حفاظت کرے اور غفلت کے وقت میں کوئی ایسی ہستی اس کی حفاظت کرے جس پر غفلت نہیں آسکتی۔ایسی ہستی خداتعالی ہی ہے اور استغفار دونوں طرف سے ہوتا ہے۔اس کا ایک حصہ انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے اور ایک حصہ خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ہے۔ایک کا نام تدبیر ہے اور ایک کا دعا۔ہوشیاری کا حصہ تدبیر کا ہوتا ہے اور غفلت کا حصہ دعا کا۔بعض نادان کہتے ہیں کہ جب تدبیر پوری پوری کرلی جائے تو پھر دعا کی کیا ضرورت ہے مگر وہ یہ نہیں سوچتے کہ انسان کہاں تک تدبیر کر سکتا ہے اور اس کی کتنی واقفیت اور کس حد تک رسائی ہے جس سے وہ تدبیر میں فائدہ اٹھا سکتا ہے۔بہت سی باتیں ایسی ہیں جو اس کے اختیار میں نہیں ان کا کیا علاج وہ کر سکتا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول سنایا کرتے تھے کہ ریاست رامپور کے ایک وزیر کا ایک نہایت وفادار پٹھان نوکر تھا جو اپنی وفاداری کے بہت دعوے کیا کرتا تھا۔کسی نے اسے کہا کہ تم اپنے آقا سے وفاداری کے دعوے تو بہت کرتے ہو مگر خدا تعالٰی سے کوئی واسطہ اور تعلق تمہیں نہیں۔وہ کہنے لگا کہ میں کسی خدا کو نہیں جانتا میرا خدا میرا آقا ہی ہے۔میں بھوکا مرتا تھا میرے بیوی بچوں کے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں تھا خدا نے میری کوئی مدد نہ کی مگر اس نے مجھے کھانے کے لئے دیا یہی میرا خدا ہے۔ایک دفعہ نواب صاحب کی تاج پوشی یا پیدائش کا دن تھا۔اس تقریب پر وہاں جلسہ ہوا۔شہر کے تمام لوگ جمع تھے اور وزیر صاحب لڈو بانٹ رہے تھے۔ایک موقع پر جو لوگوں نے ہجوم کیا تو وزیر صاحب نے انہیں پیچھے ہٹانے کے لئے کوڑا ہلایا۔جو انفاق سے ایک پٹھان کو جا لگا جس کے شاید نواب صاحب سے رشتہ داری کے تعلقات بھی تھے۔اس نے فورا چاقو نکال لیا اور کہا تم نے میری ہتک کی ہے۔اس پر وزیر اور سختی سے پیش آیا۔پٹھان نے اس کے پیٹ میں چاقو مار دیا۔یہ دیکھ کر اس پٹھان نوکر نے جو وفاداری کے بہت دعوے کیا کرتا تھا جلدی سے چاقو کو پکڑنے کے لئے جو ہاتھ مارا تو وہ اور زیادہ اندر گھس گیا جس سے موت واقعہ ہو گئی۔تو بیسیوں باتیں انسان کے اختیار میں نہیں ہوتیں بلکہ ہر کام کا کچھ حصہ ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے اور کچھ نہیں۔جو ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے اس کے لئے ہم تدبیر کر سکتے ہیں۔مگر جو نہیں ہوتا اس کے لئے