خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 21

خطبات محمود ۲۱ سال ۶۱۹۳۱ دعا کے سوا کچھ نہیں کر سکتے اس لئے خدا تعالیٰ نے يُسْتَغْفِرُونَ فرمایا ہے پس آفات سے نجات کے دو ذرائع ہی ہو سکتے ہیں۔ایک نبی کے قرب کی دیوار ہے جس کے اندر جماعت محفوظ رہ سکتی ہے اور دو سرا ذریعہ یہ ہے کہ انسان تدبیر سے بدی کو مٹادے اس کے لئے حتی الامکان کوشش کرے اور ساتھ ہی خدا تعالٰی سے دعا بھی کرتا رہے جب یہ دونوں باتیں مکمل ہو جاتی ہیں تو انسان محفوظ ہو جاتا ہے۔وگرنہ اس کے بغیر وہ ہمیشہ خطرہ میں ہوتا ہے اور معلوم نہیں کہ کس وقت پاس سے ہی آگ پیدا ہو کر اسے تباہ کر دے۔پچھلے سال جب انہی دنوں میں ڈلہوزی گیا تو وہاں میں نے ایک رؤیا دیکھا کہ میں لاہور گیا ہوں اور کالجوں کے تمام طلباء میں دہریت پھیل رہی ہے اور معلوم ایسا ہوتا ہے کہ وہ خدا کے متعلق مجھ سے سوال کرنا چاہتے ہیں میں دل میں خیال کرتا ہوں ہمیشہ میں یہ بات کہا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ مجھے قرآن سکھاتا ہے اور ہر اعتراض کا جواب سمجھاتا ہے یہ گروہ جو اس وقت کوشش کر رہا ہے کہ سوالات کر کے خدا تعالیٰ کی ہستی کو مشتبہ کردے اسے اس وقت کیا جواب دوں جو تسلی بخش ہو۔میں جواب سوچتا ہوا ٹہل رہا ہوں کہ اس عرصہ میں یکدم ایسا معلوم ہوا کہ آسمان سے میرے قلب میں ایک کھڑکی کھلی ہے جس سے مجھے اطمینان ہو گیا کہ ان کو اب میں سمجھا سکوں گا اس سے تھوڑی دیر کے بعد ان کا پیغام آیا کہ ہماری تسلی ہو گئی ہے اور اب ہم آپ سے کچھ نہیں پوچھنا چاہتے۔خدا تعالیٰ کی عجیب قدرت ہے کہ اسی مہینہ میں اور پورے ایک سال کے بعد ایک غیر احمدی طالب علم کا مجھے خط آیا کہ اور تو تمام کام آپ کی جماعت اچھے کرتی ہے مگر یہ ٹھیک نہیں کہ آپ لوگ خدا کی ہستی کو منوانے کی کوشش کرتے ہیں ہم لوگ اب ایسی باتوں سے باکل آزاد ہو چکے ہیں اور ہم نے اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ خدا کوئی نہیں۔یہ ایک کو ہے جو ممکن ہے ہمارے بچوں پر بھی اثر کرے لیکن اگر اسے ہم ابتداء میں ہی روک دیں تو وہ اس سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔جو مرض ہمارے ہمسایہ کے گھر میں پیدا ہو چکا ہو وہ ممکن ہے ہمارے گھر میں بھی آجائے طاعون اگر آج ہمسایہ کے گھر میں ہے تو عین ممکن ہے دو روز بعد ہمارے گھر میں آجائے اگر ہمارے ہمسایہ کے کھیت میں مڈی ہے اور ہم اس کے ساتھ ملکرد ہیں اسے تباہ کرنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کھیت میں تو نہیں تو یہ سخت غلطی ہے اس کا کھیت کھا کر وہ ضرور ہمارے کھیت میں آئے گی۔پس ضروری ہے کہ ہم سب مل کر اس کو کا مقابلہ کریں یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ہم اس سے محفوظ ہیں ہمیں کیا ضرورت ہے کہ اسے روکیں۔ہمارے ملک میں ایک قصہ مشہور ہے کہ تین آوارہ نوجوان جن میں سے