خطبات محمود (جلد 13) — Page 231
خطبات محمود ۲۳۱ سال ۱۹۳۱ء ہوتا ہے جو دشمن کی نگاہ میں قابل اعتراض ہوں ایسی صورت میں یا تو اللہ تعالی ان بد نتائج سے اسے بچالے گا اور یا اسے مباہلہ میں شامل ہونے نہیں دے گا۔تو استخارہ اہم سے اہم امور میں نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔مثلاً شادی کا حکم ہے رسول کریم میر نے فرمایا جس نے شادی نہ کی اور وہ اسی حالت میں مرگیا اس کی عمر ضائع ہو گئی مگر یہ حکم نہیں کہ فلاں عورت سے ضرور شادی کرو۔عورت کا انتخاب ہم خود کرتے ہیں مرد دیکھتا ہے عورت اس کے لئے موزوں ہے یا نہیں اور عورت دیکھتی ہے کہ مرد اس کے مناسب حال ہے یا نہیں اس لئے باوجود اس کے کہ شادی کرنے کا حکم ہے استخارہ ضروی ہوتا ہے۔پس استخارہ کسی کمزوری کی علامت نہیں بلکہ ایمان کی علامت ہے۔جنہوں نے اپنے جوش اور اخلاص میں لکھا ہے کہ جب ہم نے حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کو اپنے پورے یقین کے ساتھ صادق مانا تو پھر آپ کی صداقت کے متعلق مباہلہ کرنے کے لئے استخارہ کی کیا ضرورت ہے انہوں نے شریعت کی باریکیوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ خیال کیا ورنہ اگر وہ شریعت کی باریکیاں جانتے تو سمجھتے کہ جتنا یہ ضروری امر ہے اتنا ہی اس میں استخارہ کرنا بھی ضروری ہے۔اس کے بعد میں قادیان کے دوستوں کو بھی اور باہر کے دوستوں کو بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ مباہلہ کے لئے جس قدر جماعت کے دوستوں کے نام آئیں گے ان میں سے ایک ہزار نام بعض اصول کے ماتحت چنے جائیں گے گو بعض دوستوں نے یہاں تک لکھ دیا ہے کہ بغیر موصی اور تجد خوان اور کسی کو اس مباہلہ میں شامل نہ کیا جائے۔اور گو یہ شرطیں اس قابل نہیں کہ انہیں تسلیم کیا جائے مگر بہر حال انتخاب بعض شرائط کے ماتحت ہو گا۔بعضوں نے لکھا ہے ہم سفر پر تھے اس لئے اپنا نام جلدی نہ بھیج سکے ، بعض لکھتے ہیں اخبار ہم نے دیر سے پڑھا اس لئے نام بھیجنے میں دیر ہو گئی ایسے تمام دوستوں کو اطلاع ہو جانی چاہئے کہ جب سب نام جمع ہو جا ئیں گے تو ان میں سے مباہلہ میں شامل ہونے والوں کا انتخاب کیا جائے گا جو مناسب ہو گا اسے لے لیں گے اور بعضوں کو چھوڑنا پڑے گا کیونکہ میں نے صرف ایک ہزار آدمی چننا ہے۔پس دوستوں کو یہ خیال نہ کرنا چاہئے کہ چونکہ اب دیر ہو گئی ہے اور نام پورے ہو چکے ہوں گے اس لئے اب نام نہ بھیجیں بلکہ اپنے نام برابر بھیجنے چاہئیں۔جب گفتگو انتہاء کو پہنچ جائے گی تو مباہلہ کنندگان کی لسٹ شائع کردی جائے گی اور کوشش کی جائے گی کہ ایسے ہی آدمی مباہلہ میں شامل ہوں جن کی احمدیت کی مقامی جماعت تصدیق بھی کرتی ہو۔پس وہ تمام آدمی جن کا نام چنا جائے گا ایسے ہوں گے جن سے یا تو میں