خطبات محمود (جلد 13) — Page 218
خطبات محمود ۲۱۸ سال ۱۹۳۱ء و السلام نے اردو میں کتابیں لکھنی شروع کیں اس وقت تحریر کا رنگ ایسا تھا کہ آج اسے پڑھنا اور برداشت کرنا سخت مشکل ہے۔مگر آہستہ آہستہ زمانہ کی تحریر بھی اسی رنگ میں ڈھل گئی جس رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے ڈھالا تھا۔مجھے افسوس ہے کہ سلسلہ کے نوجوان مصنف اور محرر اپنی تحریریں ایسے رنگ میں لکھتے ہیں جو اس زمانہ کے اوباشانہ مصنفوں سے تو مشابہت رکھتا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر سے مشابہت نہیں رکھتا۔میں کئی ایک کی تحریروں کو جب دیکھتا ہوں تو وہ ایسی ہوتی ہیں کہ اگر نیچے سے نام کاٹ دیا جائے تو میں بے تکلفی سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی تحریر ہے مگر اپنے ذہن کو انتہائی ذہول میں ڈال کر بھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر کے رنگ میں ہے کیونکہ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ایک کے اندر ایک رنگ کی چستی تو نظر آئے گی مگر روحانیت نہیں ہو گی۔نہی اور استہزاء کا پہلو تو ہو گا سنجیدگی اور وقار نہیں ہو گا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر پر زور ہونے کے علاوہ سنجیدگی اور وقار سے باہر نہیں جاتی۔پرانے زمانہ میں کبھی کبھی آپ نے دوسروں کے اشعار بھی نقل کئے ہیں مگر ایسے برجستہ کہ شوخی نام کو نہیں بلکہ درد اور سوز کو قائم رکھا ہے۔پس میں اپنی جماعت کے مضمون نگاروں اور مصنفوں سے کہتا ہوں کسی کی فتح کی علامت یہ ہے کہ اس کا نقش دنیا میں قائم ہو جائے۔پس جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نقش قائم کرنا جماعت کے ذمے ہے آپ کے اخلاق کو قائم کرنا اس کے ذمہ ہے ، آپ کے دلائل کو قائم رکھنا ہمارے ذمہ ہے ، آپ کی قوت قدسیہ اور قوت اعجاز کو قائم کرنا جماعت کے ذمہ ہے ، آپ کے نظام کو قائم کرنا جماعت کے ذمہ ہے وہاں آپ کے طرز تحریر کو قائم رکھنا بھی جماعت کے ذمہ ہے۔اور یہ مصنفوں اور مضمون نگاروں کا کام ہے۔باقی جماعتیں تو اپنی ذمہ داریوں کو اختیار کئے ہوئے ہیں اور ایک حد تک ان پر کار بند بھی ہیں مگر مصنف اور مضمون نگار ابھی اس طرف متوجہ نہیں ہوئے۔چاہئے کہ ہماری تحریرات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رنگ میں رنگین ہوں تا آئندہ یہ سلسلہ ایسے رنگ میں جاری ہو کہ یہ بھی آپ کی ایک نشانی سمجھی جائے۔عیسائیت کا طرز تحریر ساری دنیا سے جدا گانہ ہے۔اور عیسائی لٹریچر کی بنیاد انجیل پر ہے۔عیسائی سکولوں میں اناجیل کے بعض حصے ایسے رنگ میں پڑھائے جاتے ہیں کہ نوجوانوں کو اس طرز تحریر اور زبان سے مناسبت پیدا ہو جائے۔ہمارے مضمون نگاروں اور مصنفوں کو بھی چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ