خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 189

خطبات محمود ۱۸۹ سال ۱۹۳۱ء گذرنے پر ہمیں حاصل ہوئی ہے بطور یاد گار اگر اس نیکی کو اپنے اندر پیدا کر لے تو خدا تعالے کے فضل سے یقین ہے کہ دہریت کی رو جو اس وقت دنیا میں جاری ہے رک جائے گی۔اور بے دینی اور الحاد کو شکست ہو جائے گی۔اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول شروع ہو جائے گا۔دنیا میں ہر چیز قدم بقدم ترقی کرتی ہے۔بڑے بڑے کام بھی یکدم نہیں ہو جایا کرتے بلکہ آہستہ آہستہ ہوتے ہیں۔رسول کریم مل مل کے زمانہ میں بھی سارے مسلمان تجد نہیں پڑھتے تھے آہستہ آہستہ انہیں عادت ڈالی جارہی تھی حتی کہ پھر وہ زمانہ آیا کہ حضرت عمر رضی اللہ کے زمانہ میں جنگ کے دنوں میں بھی جبکہ ثابت ہے رسول کریم میں بھی چھوڑ دیتے تھے مسلمان تہجد پڑھتے تھے۔ممکن ہے رسول کریم میں اور یہ بھی جنگ کے دنوں میں تہجد کے لئے اٹھا کرتے ہوں مگر یہ ثابت ہے کہ نہیں بھی اٹھتے تھے لیکن حضرت عمر رضی اللہ کے زمانہ میں مسلمان جنگ کے دنوں میں بھی تجد پڑھتے تھے حتی کہ ایک دفعہ جب ہر قل نے ان پر شب خون مارنے کا ارادہ کیا تو اس پر خوب بحث ہوئی اور آخری فیصلہ ہوا کہ نہ مارا جائے کیونکہ مسلمانوں پر شبخون مارنا بے سود ہے اس لئے کہ وہ تو سوتے ہی نہیں بلکہ تجد پڑھتے رہتے ہیں۔یہ بھی ترقی کی علامت ہے جو ابتداء میں نہ تھی۔شروع شروع میں رسول کریم منیر کو اس کے لئے بہت تحریک و تحریص کی ضرورت پیش آتی تھی مگر بعد میں آہستہ آہستہ کمزور بھی اس کے عادی ہو گئے۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس سال جہاں تبلیغ کو خصوصیت کے ساتھ اپنے پروگرام میں داخل کریں وہاں جمعہ کی رات کو تہجد کا بھی ضرور التزام رکھیں۔اگر کوئی بیمار ہو اور اٹھ نہ سکے تو لیٹے لیٹے ہی دعا کر لے۔اور اسے قومی شعار بنا لیا جائے اور اس سے ترقی کرتے کرتے باقاعدہ تہجد کی عادت ڈالی جائے۔میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ دوستوں کو اپنے فضل سے اس کی توفیق دے۔اور ہر قسم کے کبر اور خود پسندی سے دور رکھے اور ان راہوں پر چلنے کی توفیق دے جو اس تک پہنچتی ہوں۔(الفضل ۱۸- جون ۱۹۳۱ء) ا بنی اسرائیل ۷۹ ۸۰ ٢ البقرة : ١٤٩