خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 183

خطبات محمود TAP سال ۱۹۳۱ء میں اتنی بھی غیرت نہیں کہ ہم کہیں خدایا تیرے سوا ہمارا کوئی مددگار نہیں تو وہ ہماری التجاء نہ سنیں۔ایسا کبھی نہیں ہو سکتا بلکہ جب ہم یقین سے کہیں کہ خدایا تو نے ہی یہ کام کرنا ہے تو وہ کام پورا بھی کر دیتا ہے مگر نقص یہی ہے کہ یقین کی کمی ہے منہ سے تو کہتے ہیں کہ خدایا یوں کر مگر دل خدا کی نصرت پر یقین نہیں رکھتا۔ایسی دعا خدا کی درگاہ سے رد کر دی جاتی ہے اور دعا کرنے والے کے منہ پر ماری جاتی ہے۔پس دعائیں کرو عبادت کی عادت ڈالو اور ذکر الہی کیا کرو اور ضروری بات یہ ہے کہ تہجد کی عادت ڈالو۔مجھے افسوس ہے ہماری جماعت میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو تجد کے لئے اٹھتے ہیں۔اگر زیادہ نہیں کر سکتے تو کم از کم اتنا تو کریں جو ایک دفعہ انصار اللہ کے بچوں سے میں نے کہا تھا کہ یہ عہد کرو کہ جمعہ کی رات تجد ضرور پڑھنی ہے۔ایک رات تہجد پڑھ لو اور چھ راتیں سولو۔اس طرح آہستہ آہستہ باقی دنوں میں بھی اٹھنے کی عادت ہو جائے گی۔اگر دوست رات تمام تعالیٰ کے حضور دعا ئیں کرے تو ہماری متحدہ دعا ئیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے میں عظیم الشان اثر دکھائیں گی۔پس کم از کم ہفتہ میں ایک دن سوائے سفر یا بیماری یا ایسی ہی کسی اور معذوری کے جو استثنائی صورتیں ہیں ہر جمعہ کی رات اٹھو اور تہجد پڑھا کرو۔اگر ہم اس طرح کریں تو بہت بڑی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ہماری جماعت کے لاکھوں آدمی اگر ہر جمعہ کی رات تجد کے تھے انھیں اور سب اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہوں تو ہر ہفتے میں ایک دن ہمیں رمضان جیسی برکتوں والا میسر آسکتا ہے۔پس جو لوگ تہجد پڑھا کرتے ہیں وہ تو پڑھای کریں مگروہ جو اٹھ نہیں سکتے انہیں میری یہ نصیحت ہے کہ وہ کم از کم جمعہ کی رات ضرور اٹھیں اور تہجد پڑھیں۔میں جمعہ کی تخصیص اس لئے کرتا ہوں تا سارے دوست ایک ہی رات اٹھیں اور مشرق مغرب کے احمدی اللہ تعالیٰ کے حضور سلسلہ عالیہ کی کامیابی اور اپنے اندر اخلاص تقویٰ اور طہارت پیدا ہونے کے لئے چلا ئیں۔پس اس جوبلی کی یادگار کا اس کو بھی حصہ ہی قرار دے لو کہ تمام بالغ احمدی خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں کوشش تو یہ کریں کہ ہمیشہ تجد پڑھیں لیکن اگر ہمیشہ اس عمل نہیں کر سکتے تو جمعہ کی رات مخصوص کر لیں اور سب اللہ تعالیٰ کے حضور متفقہ طور پر دعائیں مانگیں۔میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتا ہوں کہ جیسا اس نے حمل کے ایام میں ہماری حفاظت فرمائی رضاعت اور طفولیت کے اوقات میں ہمارا پاسبان رہا اور جوانی کے وقت بھی ہمیں اس نے اتناہی عہد کرلیں اور اسے پورا کرنے کی کوشش کریں اور جمعہ ساٹھ ستر