خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 182

خطبات محمود TAY ہے کہ ہمیں یہ حق دیتا ہے تو دے دو وگر نہ ہم جیل خانے جاتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ دلیری بڑی چیز ہے۔تم موت کے لئے تیار ہو جاؤ موت تم سے بھاگنے لگے گی۔جیل خانوں کے لئے تیار ہو جاؤ جیل خانے تم سے دور بھاگیں گے اور مار کھانے کے لئے تیار ہو جاؤ تو مارنے والے تم سے بھاگنے لگیں گے۔پس دلیر بن جاؤ اور یقین رکھو کہ ہر چیز تمہاری خادم ہے اور تمھیں کوئی چیز گزند نہیں پہنچا سکتی۔اس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام میں اشارہ ہے کہ "آگ سے ہمیں مت ڈراؤ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔" یعنی چونکہ ہم آگ سے ڈرتے نہیں اس لئے آگ نہ صرف ہماری غلام ہے بلکہ ہمارے غلاموں کی بھی غلام ہے۔کچی بات یہ ہے کہ جب کوئی قوم یہ فیصلہ کر لیتی ہے کہ ہم نے کسی سے نہیں ڈرنا تو تمام قومیں اس سے ڈرنے لگتی ہیں۔پس اپنے دلوں سے بزدلی نکال دو اور یا دور کھو کہ جس دن تم نے بزدلی دور کر دی اس دن تمام قو میں تم سے ڈرنے لگیں گی۔پھر اللہ تعالی کے حضور دعا ئیں بھی کرو۔جب اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہو رہے ہوں اس وقت ایسے ایسے رنگ میں دعائیں قبول ہوتی ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ابھی چند دن کا واقعہ ہے مجھے ایک مشکل در پیش تھی اور میرے ذہن میں اس کا کوئی حل نہ آتا تھا۔طبیعت میں ایک قسم کی گھبراہٹ تھی اور میں حیران تھا کہ کیا کروں دل میں خیال آیا میں نے کاغذ اور قلم رکھ دیا اور اللہ تعالی سے دعا کی کہ الٹی میرے پاس اس مشکل کا کوئی حل نہیں اور میرے واہمہ میں بھی نہیں آتا کہ میں اس کا کیا حل نکالوں تو خود ہی اپنے فضل سے میری رہبری فرما۔صرف ایک منٹ میں نے دعا کی ہوگی۔پھر میں اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔ابھی پانچ منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ وہ مشکل جس کاحل میرے واہمہ میں بھی نہیں آتا تھا حل ہو گئی۔یعنی پانچ منٹ کے اندرہی میرے دروازے پر دستک ہوئی اور جس مشکل کی وجہ سے میں گھبرا رہا تھا اس کا حل حاصل ہو گیا۔پس جو اللہ تعالی کے حضور کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی اعانت کرتا ہے۔صرف اللہ تعالیٰ کی مدد کا پورا یقین ہونا چاہئے۔اور جس وقت یقین سے دعا کی جائے تو وہ اللہ تعالی کے حضور سے رد نہیں کی جاتی بلکہ قبول ہو جاتی ہے۔حضرت ابن عباس سے کسی نے پوچھا سب سے زیادہ توجہ سے آپ کس کا کام کیا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا میں اس شخص کا کام سب سے زیادہ توجہ سے کرتا ہوں جو مجھے یہ کہدے کہ اے ابن عباس تیرے سوا میرا یہ کام کوئی اور شخص نہیں کر سکتا۔اگر ابن عباس کے دل میں اتنی غیرت ہو سکتی ہے کہ جب کوئی شخص ان پر بھروسہ کرے تو وہ ان کا کام کر دیں تو کیا ہمارے مولی