خطبات محمود (جلد 13) — Page 168
خطبات محمود IYA سال ۱۹۳۱ء دوستوں نے سنایا ہے۔یہاں ایک دوست تھے جنہیں پروفیسر کہا جاتا تھا۔وہ پہلے تماشوں وغیرہ کے تماشے کیا کرتے تھے یعنی پتوں وغیرہ کا رنگ تبدیل کر دینا یا کسی کی جیب سے پتہ اُڑا لینا یا چھوٹا بڑا کر دینا وغیرہ وغیرہ۔اور چونکہ وہ نوکر رکھ کر با قاعدہ تھیٹر وغیرہ بنا کر کھیل کیا کرتے تھے اس لئے بجائے بازی گر یا مداری کے پروفیسر کہلاتے تھے۔بعد میں جب احمدی ہوئے تو یہ کام چھوڑ دیا اور تجارت کرنے لگے مگر پر و فیسر ہی کہلاتے رہے۔مخلص آدمی تھے مگر طبیعت میں تیزی بہت تھی۔کچھ دنوں لاہور میں دکان کرتے تھے۔کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شان میں کوئی بے ہودہ لفظ کہا تو اسے پکڑ کر مارا۔خواجہ کمال الدین صاحب یہاں آئے تو حضرت مسیح موعود سے شکایت کی کہ ان کو سمجھا دیا جائے اس طرح فتنہ پیدا ہوتا ہے۔آپ نے انہیں سمجھانا شروع کیا اور فرمایا ہماری تعلیم یہی ہے کہ نرمی سے کام لیا کرو۔اگر کوئی گالیاں بھی دے تو برداشت کیا کرو۔ان کی طبیعت چونکہ تیز تھی اس لئے انہوں نے جو بات کی وہ اگر چہ بے ادبی کی تھی مگر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جوش کے وقت انسان کی حالت کیا ہوتی ہے۔انہوں نے کہا بس جی بس ایسی نصیحت رہنے دیں آپ کے پیر کو جب کوئی گالی دے تو آپ جھٹ مباہلہ کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور ہمارے پیر کو برابھلا کہا جائے تو ہمیں خاموش رہنے کی نصیحت کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ سن کر ہنس پڑے اور بھی سب اہل مجلس ہنس پڑے۔صحیح بات یہی ہے کہ ایسی حالت میں انسان کو سمجھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔گو یہ غلطی ہوتی ہے مگر اس کی ذمہ داری اس پر ہوتی ہے جس نے ایسی حالت پیدا کی۔جیسے ہندوؤں نے رسول کریم ایل کی تنگ کرنے کے لئے کتابیں لکھیں اور اس کے نتیجہ میں بعض قتل ہوئے۔جو شخص ایسی حالت پیدا کرتا ہے وہ خود قتل کرنے والے سے بھی زیادہ مجرم ہے۔چنانچہ قرآن شریف نے فرمایا ہے الْفِتْنَةُ اشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ علمی کو جوش اور اشتعال دلانا بہت زیادہ خطر ناک ہے۔کیونکہ وہ خود پیچھے رہ کر دو سرے کو گنہ گار بنانا چاہتا ہے۔الغرض ایسی حالت میں خواہ کسی پر کتنا ہی تصرف کیوں نہ ہو سمجھانا مشکل ہو جاتا ہے۔ایک دفعہ یہاں کسی نے مشہور کر دیا کہ ہندوؤں نے نیر صاحب اور پیر محمد یوسف بھٹہ والے کو مار دیا ہے۔نوجوان طالب علم اور دوسرے لوگ سب کے سب لاٹھیاں لے کر دوڑ پڑے۔اتفاق سے میں ایسی جگہ بیٹھا تھا کہ میں نے اوپر سے لوگوں کو گلی میں سے جاتے دیکھ لیا۔ان کے چہرے متغیر تھے کئی ایک اور ہے تھے۔آنکھیں سرخ تھیں۔میں نے پوچھا کہ کہاں جاتے ہو ؟ مگر وہ رُکے نہیں۔جب کئی آواز میں دے کر رو کا اور پوچھا کہ کہاں جاتے ہو تو انہوں نے بتایا کہ اس طرح !