خطبات محمود (جلد 13) — Page 167
خطبات محمود 194 سال ۱۹۳۱ء فیصلہ پر عمل کیا جائے اور بد دیانتی پر مبنی قرار نہ دیا جائے۔سو عمل ہو چکا اور ہم عدالت پر بد دیانتی کا الزام نہیں لگا سکتے کیونکہ یہ کہنا کہ دشمنی سے یہ سزا دی گئی سخت بے حیائی ہوگی۔بھلا فیصلہ کرنے والے انگریز جوں کو کسی سے کیا دشمنی یا لگاؤ ہو سکتا ہے۔انہوں نے جو کچھ کیا اپنے نزدیک صحیح سمجھ کر کیا اگر چہ وہ غلط ہے۔انہوں نے جس بات کو زیادہ وزن دار سمجھا اس کی بناء پر فیصلہ کر دیا۔مگر ہم جس بات کو اپنے نزدیک زیادہ معتبر سمجھتے ہیں اس کی بناء پر فیصلہ کرتے ہیں۔اصل علم اللہ تعالی کو ہی ہے دونوں ایک دوسرے کی نگاہ میں بری ہیں۔دونوں کی نیت پر اعتراض نہیں جاسکتا۔انہوں نے اپنی نیت اور علم کے مطابق فیصلہ کیا اور اس بناء پر کیا کہ قاضی صاحب نے قتل کیا ہے اور ہم تعریف کرتے ہیں تو اس لئے کہ انہوں نے قتل نہیں کیا اور سچائی کے لئے جان دیدی۔اور تو شخص کہتا ہے کہ انہوں نے بالا رادہ قتل کیا اور اچھا کیا وہ منافق ہے اور جماعت پر اعتراض کرانا چاہتا ہے۔اسی طرح جو یہ کہتا ہے کہ انہوں نے غلطی کی ہے وہ بھی یا تو بیوقوف ہے یا شرارت کرتا ہے گو یادہ یہ قرار دیتا ہے کہ انہوں نے قتل کیا حالانکہ نہیں کیا۔غرض جو یہ کہتا ہے کہ بالا رادہ قتل کیا اور اس بناء پر تعریف کرتا ہے وہ بھی منافق ہے کیونکہ سلسلہ کی تعلیم کے خلاف وہ یہ خیال پھیلانا چاہتا ہے کہ اگر کوئی گالی دے تو اسے قتل کر دینا چاہئے اور جو یہ کہتا ہے کہ انہوں نے دیدہ و دانستہ قتل کیا اور اس وجہ سے وہ قابل مذمت ہے وہ بھی فتنہ گر ہے۔پس دونوں قسم کے لوگوں میں منافق ہیں۔ہاں ایک درمیانی راستہ ہے اور وہ یہ کہ اشتعال پیدا ہوا اور لڑائی ہو گئی اس میں ایک شخص مارا گیا اور یہی صحیح ہے۔مگر یاد رکھو کہ وہ اشتعال جس میں انسان معذور سمجھا جاتا ہے وہی ہے جو اسباب کے ساتھ فوراہی پیدا ہو جائے۔قانون کے نزدیک بھی قابل عفو اشتعال یہی ہے کہ وہ فوری ہو جس کے دبانے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔رسول کریم ﷺ نے بھی یہی فرمایا ہے کہ اگر جوش آئے تو کھڑے ہونے کی صورت میں بیٹھ جاؤ یا پانی پی لو یا وہاں سے ہٹ جاؤ۔جس کے معنے یہ ہیں کہ اشتعال فوری ہوتا ہے اور زمانہ کے گزرنے کے ساتھ جوش مدھم ہو جاتا ہے اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ کینہ تو زی ہے۔آنا فانا جو کچھ ہو جائے وہ بھی بے شک قابل اعتراض یا قابل افسوس ہو گا مگر اتنا نہیں جتنا وہ فعل جو کینہ تو زی کے ماتحت کیا جائے۔اشتعال کے ماتحت لڑائی کو بھی ہم اچھا نہیں کہتے مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت انسان کے لئے اپنے پر قابو رکھنا قریب ناممکن ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کا واقعہ ہے۔میں نے خود تو نہیں سنا مجھے