خطبات محمود (جلد 13) — Page 148
خطبات محمود ۱۴۸ طرح اللہ تعالی کی طرف منسوب ہونے والا گھر بھی محفوظ اور برکتوں کا موجب ہوتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ جن جن جماعتوں نے اخلاص کے ساتھ اپنے شہروں میں مسجدیں تعمیر کرائی ہیں ان جماعتوں نے ترقی بھی کی ہے۔ہاں یہ ضروری ہے کہ مسجد میں دکھاوا نہ ہوں ان میں اللہ تعالیٰ کا ذکر خشوع و خضوع سے ہونا ان کی ظاہری خوبصورتی سے بہت بہتر ہے۔میں نے ایک مسجد کو دیکھا جسے ایک ایسی جماعت نے جس میں چند ہی احمدی تھے تعمیر کرایا تھا اور اس پر ہزاروں روپیہ خرچ ہوا تھا۔مجھے خیال آیا کہ اس مسجد پر بلحاظ جماعت کے زیادہ روپیہ خرچ ہوا ہے۔اس میں میں نے خطبہ اس مضمون پر پڑھا کہ مسجد میں ذکر الٹی کے لئے ہوتی ہیں ان میں نقاشی کے ذریعہ اسراف کی ضرورت نہیں مگر میری نصیحت پر ان لوگوں نے اس وقت کوئی توجہ نہ کی۔آخر تھوڑے دنوں کے بعد ہی وہاں کی جماعت کمزور ہو گئی اور وہ شخص جس نے مسجد کی تعمیر میں زیادہ حصہ لیا تھا اور مجھ ذاتی طور پر بہت تعلق ظاہر کرتا تھا غیر مبائع ہو گیا اور غالبا اب وہ احمدی بھی نہیں۔پس اگر ایک مسجد سادہ ہو اور اس میں خشوع و خضوع سے نماز ادا کرنے والے نمازی جمع ہوں تو وہ ایسی مسجد سے بہت بہتر ہے جو کہ عمارت کے لحاظ سے عالیشان ہو مگر اس میں خدا کا نام لینے والا کوئی نہ ہو۔جس اخلاص سے یہاں کے لوگوں نے مسجد قائم کی ہے یقیناً یہ اخلاص برکتوں کا موجب ہوگا اور اگر یہ لوگ اس نیت سے تبلیغ کریں کہ اللہ تعالیٰ اس مسجد کو نمازیوں سے بھر دے تو میں امید رکھتا ہوں کہ اس نیت سے ان کی تبلیغ زیادہ بابرکت ہوگی۔جس جگہ مسجد بنائی جاتی ہے وہاں کے لوگوں میں وہ اس بات کے لئے گدگدی پیدا کرتی رہتی ہے کہ اسے آباد رکھا جائے۔حضرت ابراہیم کی مثال ہمارے سامنے ہے۔جب انہوں نے بیت اللہ کی تعمیر کی تو دعا کی کہ الہی ! اس کو آباد کر دے۔چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مختلف قبائل اپنے وطنوں کو چھوڑ کر وہاں آباد ہو گئے۔مساجد خداتعالی کی یاد کا کام دیتی ہیں۔اگر چہ بظاہر اینٹیں اور پھر نظر آتے ہیں لیکن وہ ایک نشان کے طور پر ہوتی ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے بنائی جاتی ہیں اور مسجد کو دیکھ کر فورا خدایاد آجاتا ہے۔جس طرح ہم کسی اپنے دوست کے مکان کے پاس سے گزریں تو اس مکان کو دیکھ کر ہمیں وہ دوست یاد آجاتا ہے اسی طرح مسجد کو دیکھنے سے بھی انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔پس میں امید کرتا ہوں کہ اگر یہاں کے دوست یہ نیت کرلیں کہ وہ مسجد کو آباد کریں گے اور ساتھ ہی دعا ئیں بھی کریں اور مسجد کی آبادی کو مد نظر رکھتے ہوئے جوش کے ساتھ تبلیغ کریں تو بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اخلاص میں برکت دے اور وہ اس جگہ کو دوسری جگہوں پر