خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 96

خطبات محمود ۹۶ سال ۱۹۳۱ء اپنی مجالس میں جب سمجھتے ہیں کہ کوئی احمدی سننے والا نہیں تسلیم کرتے ہیں کہ اسلام کی نجات احمدیت کی اشاعت سے ہی وابستہ ہے۔سوائے ان چند ایک مولویوں کے جن کی روزی کا دار و مدار ہی ہماری مخالفت پر ہے جن کے ایمان رزق سے باہر نہیں جاتے جنہیں خدا اور رسول سے محبت نہیں بلکہ اپنی تنخواہ اور روٹی سے محبت ہے ایسے لوگوں کو چھوڑ کر باقی جو عام لوگ یا ایسے علماء جو کسی کے محتاج نہیں وہ باوجود مخالفت کے تسلیم کرتے ہیں کہ اسلام کی خدمت جو جماعت احمدیہ کر رہی ہے وہ کوئی اور نہیں کر سکتا اور یہ قبول صداقت کے لئے پہلا قدم ہوتا ہے جب لوگوں کے دلوں میں صداقت کا رعب قائم ہو جائے اور وہ خوبی کو تسلیم کرنے لگ جائیں تو پھر ان کے لئے ماننا آسان ہوتا ہے اور آگے قدم اٹھانا دو بھر نہیں ہوتا۔پس ہمیں پہلا قدم یہ اٹھانا چاہئے کہ تبلیغ کے لحاظ سے ایسی نظیر قائم کر دیں کہ باہر کے لوگ بھی اس طرف توجہ کرنے پر مجبور ہو جائیں۔اس کے متعلق پہلے بھی میں نے ایک خطبہ پڑھا تھا۔اور پھر ایک پھیرو چیچی میں پڑھا۔وہ بھی چھپ کر شائع ہو چکا ہے اور جو لوگ اخبار پڑھنے کے عادی ہیں انہیں معلوم ہو گیا ہو گا کہ میرا انشاء ہے ہر احمدی سے سال میں کچھ عرصہ تبلیغ کا کام لیا جائے۔عورتوں اور بچوں کو ابھی میں منتقلی کرتا ہوں کیونکہ ان کے تبلیغ کرنے کے متعلق میں نے ابھی کوئی سکیم نہیں سوچی۔ہاں مردوں کے متعلق میں سکیم تیار کر چکا ہوں جس کے ماتحت کوئی احمد کی خواہ پڑھا ہوا ہو یا ان پڑھ ہو کچھ وقت تبلیغ کے لئے دے۔میں نے عام اعلان کیا ہے کہ جماعت کے جو دوست خوشی سے تبلیغ کے لئے اپنا نام پیش کرنا چاہیں کریں لیکن قادیان کے لئے یہ صورت نہیں کہ جو اپنے نام لکھوائیں ان کے نام لکھے جائیں بلکہ یہاں کے تمام مردوں اور بالغ بچوں کے نام لکھ لئے جائیں۔اور نظارت دعوۃ و تبلیغ کا یہ فرض ہے کہ ایک ہفتہ کے اندراندرید فہرست مکمل کرے۔یہ نہیں کہ تحریک کی جائے کہ لوگ تبلیغ کے لئے اپنے نام لکھا ئیں بلکہ سب کے نام لکھ کر پھر اعلان کیا جائے کہ جو لوگ معذور ہوں وہ اپنے مذرات پیش کر کے اپنے نام کٹوا سکتے ہیں۔گویا یہ تبلیغ کے لئے جبری بھرتی ہے۔مگر اس میں معقول معذوریوں اور مجبوریوں کا لحاظ رکھا جائے گا۔مردم شماری سے پتہ لگا ہے کہ یہاں احمدیوں کی تعداد گذشته مردم شماری سے دوگنی سے بھی زیادہ ہے۔گذشتہ مردم شماری میں ہماری تعداد ۲۴۰۰ لکھی گئی تھی اور اس سے دوگنی ۴۸۰۰ ہے مگر اس مردم شماری میں ۵۵۰۰ معلوم ہوئی ہے۔گویا سوا دو گئی اور قادیان کے ارد گرد بھی کثرت سے احمدی ہیں اور اندازہ ہے کہ ایک ایک میل کے حلقہ کے احمدیوں کو اگر شامل کر لیا