خطبات محمود (جلد 13) — Page 97
خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء جائے تو آٹھ ہزار احمدی ہوں گے۔گذشتہ مردم شماری میں سارے پنجاب میں ہماری تعداد ۲۸۰۰۰ بتائی گئی تھی۔بے شک یہ غلط ہے مگر سرکاری رپورٹ کو چونکہ سند سمجھا جاتا ہے اس لئے " بیرونی ممالک میں اگر کسی نے ہمار ا ذ کر کیا تو اس رپورٹ کی بناء پر اتنی ہی تعداد بتائی۔مگر میں سمجھتا ہوں اگر ٹھیک طرح سے مردم شماری کی جائے تو صرف ضلع گورداسپور میں ہی ہماری تعداد ۲۸۰۰۰ ہو گی۔مگر مردم شماری میں ہمیشہ غلطی ہو جاتی ہے حتی کہ اس سال منگل میں بھی جو یہاں سے بہت قریب ہے اور جہاں کثرت سے احمدی ہیں کئی سو احمدی درج ہونے سے رہ گئے اور اس قسم کی غلطیاں ہر جگہ ہوئی ہوں گی۔اگر ان کا ازالہ کیا جاسکے تو صرف اسی ضلع میں ۲۸۰۰۰ احمدی ہوں گے۔غرض اب لوگ اسے ایک عظیم الشان تحریک سمجھنے لگ گئے ہیں اور سمجھتے جاتے ہیں کہ اس سے پیچھے ہٹنا اسلام سے دشمنی ہے۔اور جب یہ صورت پیدا ہو جائے تو یہی وقت يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا کا ہوتا ہے۔جب مسلمانوں کو یہ معلوم ہو تا جا رہا ہے کہ اسلام کی زندگی اور موت کا سوال احمدیت سے وابستہ ہے تو نیک دل لوگ اس بزدلی کے لئے تیار نہیں ہو سکتے کہ اس قربانی میں شریک نہ ہوں جس کا اسلام اس وقت مطالبہ کر رہا ہے۔چنانچہ ارد گرد کے حلقوں میں خدا کے فضل سے زبر دست تحریک شروع ہو گئی ہے۔اور ابھی مجھے بتایا گیا ہے کہ آج بہت سے لوگ بیعت کے لئے آئے ہیں۔یہی وہ نظارہ ہے جو رسول کریم میں نے يَدْخُلُونَ فِي دینِ اللهِ أَفْوَا جا کے موقع پر دیکھا تھا۔میں نے ایک سکیم تیار کی ہے۔اس کے ماتحت جماعت کے ہر ایک فرد سے جو قادیان میں رہتا ہے یا جو پاس کے کسی گاؤں سے اس کے لئے آمادگی ظاہر کرے ایک یا دو ہفتے تبلیغ کا کام لیا جائے گا۔اس سکیم کے ماتحت ایک کمانڈر ہو گا اور دو اس کے نائب ہوں گے۔ہر نائب کو پچاس مبلغ دیئے جائیں گے جو خواہ ہفتہ کے بعد چلے جائیں خواہ دو ہفتہ کے بعد لیکن برابر ایک معین عرصہ تک علاقہ ملکانا کی طرح ایک مبلغ ایک گاؤں میں موجود رہے گا۔اور اس طرح تو گاؤں میں یک دم تبلیغ ہوتی رہے گی۔ایسا کرنے سے وہ ڈر بھی نکل جائے گا جو رشتہ داروں کی مخالفت کا لوگوں کے دلوں میں ہوتا ہے۔جب چاروں طرف تبلیغ ہو رہی ہوگی اور ہر طرف سے یہی آواز آئے گی کہ بات تو بچی ہے تو پھر رشتہ داروں کے ڈر کی وجہ سے لوگ نہیں رکیں گے۔اس سکیم کو تجربہ کے بعد اور بھی وسعت دی جائے گی۔حتی کہ گورداسپور کے ضلع میں کوئی ایسا گاؤں نہ ہو گا جہاں کوئی احمدی مبلغ پندرہ روز نہ رہ آیا ہو۔دوسری حکیم تعلیم و تربیت کے متعلق ہے۔اس سلسلہ میں ابھی