خطبات محمود (جلد 13) — Page 63
خطبات محمود ура سال ۱۹۳۱ء ہو۔تمہارا فرض ہے کہ اس وقت تک دم نہ لو جب تک تمام دنیا کو آپ میر کی غلامی میں داخل نہ کر لو۔پھر کیا کوئی غیرت مند مومن یہ بات برداشت کر سکتا ہے کہ جو اخلاق محمد مال دنیا میں پیدا کرنا چاہتے تھے وہ تو دنیا سے مفقود ہو جائیں اور ان کی جگہ اور باتیں لے لیں۔کیا یہ گرمی کہلا سکتی ہے۔گرم جوشی آگے نکلنے کا نام ہے۔ٹھنڈی چیز ہمیشہ دب کر رہتی ہے۔گرمی تو ابل ابل کر باہر نکلتی ہے جس طرح ہنڈیا ابلتی ہے۔رمضان کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالی کا بندہ ٹھنڈا نہیں ہوتا بلکہ اہل رہا ہے۔پس ہمیں سوچنا چاہئے کہ کیا ہم اپنی اور دوسروں کی اصلاح کے لئے اسی طرح ابل رہے ہیں جس طرح اُبلنے کا حق ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ ہماری جماعت میں اصلاح اور ترقی کا خیال ہے مگر یہ سخت غلطی ہے کہ انسان دوسروں کو دیکھ کر مطمئن ہو جائے اور یہ خیال کرلے کہ میں دو سروں سے بہت ترقی یافتہ ہوں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اس مقام پر پہنچ جائے جو واقعی خوشی کا مقام ہے۔کیا اندھے کو دیکھ کر کوئی کا نا خوش ہو سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ غنیمت ہے میری ایک آنکھ تو سالم ہے۔اگر چہ اس میں موتیا ہی اترا ہوا ہے۔پس اگر ہم یہ خیال کر کے مطمئن ہو کر بیٹھ جائیں کہ ہم دوسروں سے اچھے ہیں تو ہماری حالت ایسے ہی ہوگی جیسے مشہور ہے کہ ایک سپاہی کہیں سفر پر جارہا تھا۔راستے سے دور کسی نے نہایت عاجزی سے اسے پکارا۔سپاہی اگر چہ عام طور پر سنگ دل ہوتے ہیں مگر کبھی ان میں بھی رحم کے جذبات پیدا ہو سکتے ہیں۔اسے بھی ترس آگیا اور وہ پکارنے والے کی طرف بڑھا۔پاس جا کر دیکھا کہ دو آدمی لیے ہیں۔اس نے پوچھا کہو کیا بات ہے۔ان میں سے ایک نے کہا میری چھاتی پر پیر پڑا ہے۔ذرا اٹھا کر میرے منہ میں ڈال دینا اس پر سپاہی کا رحم غصہ سے بدل گیا اور اس نے کہا نا معقول انسان ! تو نے خواہ مخواہ میرا سفر خراب کیا۔کیا خود بیراٹھا کر منہ میں نہ ڈال سکتے تھے۔یہ سن کر دوسرا بولا آپ اس قدر خفا نہ ہوں یہ بہت ہی کاہل اور ست آدمی ہے۔اس سے زیادہ ست تو شاید دنیا بھر میں کوئی نہ ہو تمام رات گتا میرا منہ چاہتا رہا مگر یہ اسے دھتکار نہ سکا۔یہی مثال ہماری ہوگی اگر ہم اس بات پر مطمئن ہو جائیں کہ غیر احمد یوں عیسائیوں اور ہندوؤں سے ہماری حالت اچھی ہے گو بالکل اچھی نہیں۔برائی چھوٹی کیا اور بڑی کیا آخر برائی ہے اور اسے دور کرنا چاہئے۔کیا کوئی عقل مند اس بات پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کر سکتا ہے کہ دوسرے کے کھانے کے برتن میں اونس بھر پیشاب پڑا ہے اور میرے میں فقط ایک ڈرام ہی ہے۔پس ضرورت ہے کہ ہم صرف یہ نہ دیکھیں کہ دوسروں سے اچھے ہیں یا نہیں بلکہ یہ دیکھیں کہ